hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4950

.

الطحاوي

4950
Al Tahawi
۴۹۴۹: مَا قَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیْرُ عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالْقَسَامَۃِ عَلَی الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِمْ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْقَسَامَۃَ عَلَی الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِمْ لَا عَلَی الْمُدَّعِیْنَ عَلٰی مَا بَیَّنَ الزُّہْرِیُّ فِیْ حَدِیْثِہِ ہَذَا . وَاِنَّمَا کَانَ أَخَذَ الْقَسَامَۃَ عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ ہَذَا مِمَّا أَخَذَہُ عَنْہُمْ .وَقَدْ وَافَقَ ذٰلِکَ مَا رَوَیْنَاہٗ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِمَّا فَعَلَہُ وَحَکَمَ بِہٖ بِحَضْرَۃِ سَائِرِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہُمْ فَلَمْ یُنْکِرْہُ عَلَیْہِ مِنْہُمْ مُنْکِرٌ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٩٤٩: ابن ابی الذئب نے زہری (رح) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدعا علیہم پر قسامت کا فیصلہ فرمایا۔ قسامت مدعا علیہم کے ذمہ ہے مدعی پر نہیں جیسا کہ زہری کے اس قول سے معلوم ہو رہا ہے۔ تو زہری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے اور انھوں نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حکم قسامت اخذ کیا اور یہ بات اس اثر فاروقی کے عین مطابق ہے جس کو انھوں نے کیا اور اس کے مطابق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے اصحاب کے ہوتے ہوئے انھوں نے فیصلہ کیا اور ان کے سامنے کسی نے انکار نہیں کیا۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : قسامت مدعا علیہم کے ذمہ ہے مدعی پر نہیں جیسا کہ زہری کے اس قول سے معلوم ہو رہا ہے۔ تو زہری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے اور انھوں نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حکم قسامت اخذ کیا اور یہ بات اس اثر فاروقی کے عین مطابق ہے جس کو انھوں نے کیا اور اس کے مطابق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے اصحاب کے ہوتے ہوئے انھوں نے فیصلہ کیا اور ان کے سامنے کسی نے انکار نہیں کیا۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب سے معلوم ہوتا ہے کہ قسامت کی ذمہ داری مدعیٰ علیہ پر ہے مدعی پر نہیں۔ مدعی اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرے ورنہ مدعا علیہ سے قسم لے۔