hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4952

.

الطحاوي

4952
Al Tahawi
۴۹۵۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَیِّصَۃَ أَنَّ نَاقَۃً لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا لِرَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِیْہِ فَقَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلٰی أَہْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَہَا بِالنَّہَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِیْ بِاللَّیْلِ ضَمَانٌ عَلٰی أَہْلِہَا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : مَا أَصَابَتِ الْبَہَائِمُ نَہَارًا فَلَا ضَمَانَ عَلٰی أَحَدٍ فِیْہِ وَمَا أَصَابَتْ لَیْلًا ضَمِنَ أَرْبَابُ تِلْکَ الْبَہَائِمِ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا ضَمَانَ عَلٰی أَرْبَابِ الْمَوَاشِیْ فِیْمَا أَصَابَتْ مَوَاشِیْہِمْ فِی اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ اِذَا کَانَتْ مُنْفَلِتَۃً .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٤٩٥١: حرام بن سعد بن محیصہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب (رض) کی اونٹنی ایک آدمی کے باغ میں رات کو داخل ہوئی اور اس نے اس میں نقصان کردیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا باغ والے دن کو باغ کی حفاظت کر اور رات کو جو مویشی نقصان کر جائیں اس کا ضمان مویشیوں کے مالکوں پر ہوگا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کیا اور انھوں نے کہا کہ دن کے وقت مویشی جو نقصان کریں اس کا کسی پر ضمان نہ ہوگا اور جو نقصان وہ رات کو کریں تو ان جانوروں کے مالکوں پر ضمان آئے گا انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسرے علماء کا مؤقف یہ ہے کہ مویشی مالکوں پر ضمان نہیں خواہ ان کے مویشی دن کو نقصان کریں یا رات کو جب کہ وہ جانور کھلے چھوڑے ہوئے ہوں انھوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٩٠‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ١٣‘ مالک فی الاقضیہ ٣٦‘ مسند احمد ٥؍٤٣٦۔
امام طحاوی (رح) کا قول :
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کیا اور انھوں نے کہا کہ دن کے وقت مویشی جو نقصان کریں اس کا کسی پر ضمان نہ ہوگا اور جو نقصان وہ رات کو کریں تو ان جانوروں کے مالکوں پر ضمان آئے گا انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : دوسرے علماء کا مؤقف یہ ہے کہ مویشی مالکوں پر ضمان نہیں خواہ ان کے مویشی دن کو نقصان کریں یا رات کو جب کہ وہ جانور کھلے چھوڑے ہوئے ہوں انھوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔