۴۹۶۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّہَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ اِلَی خَیْبَرَ وَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُقَاتِلُہُمْ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مِثْلَنَا ؟ .قَالَ اُنْفُذْ عَلٰی رِسْلِک حَتّٰی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ ، ثُمَّ اُدْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ ، وَأَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاللّٰہِ لَأَنْ یَہْدِیَ اللّٰہُ بِک رَجُلًا وَاحِدًا ، خَیْرٌ لَک مِنْ أَنْ تَکُوْنَ لَک حُمْرُ النَّعَمِ .
٤٩٦٩: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت علی (رض) کو خیبر کی طرف بھیجا اور ان کو جھنڈا عنایت فرمایا تو حضرت علی (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہوجائیں۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے طریقے پر چلتے رہو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں جا اترو۔ پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق لازم ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
تخریج : بخاری فی الجہاد باب ١٤٣‘ فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب ٩‘ مسلم فی فضائل الصحابہ ٣٤‘ مسند احمد ٥؍٣٣٣۔