۴۹۷۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ السَّفْطِیُّ ، قَالَ : ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَر ، عَنِ ابْنِ أَخِی أَنَسِ بْنَ مَالِکٍ ، عَنْ عَمِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ اِلَی قَوْمٍ یُقَاتِلُہُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ فِیْ أَثَرِہِ یَدْعُوْھُ ، وَقَالَ لَہُ لَا تَأْتِہِ مِنْ خَلْفِہٖ، وَائْتِہِ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ قَالَ : وَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا أَنْ لَا یُقَاتِلَہُمْ ، حَتّٰی یَدْعُوَہُمْ .
٤٩٧٠: عمر بن ذر نے انس بن مالک کے بھتیجے سے وہ اپنے چچا انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک قوم کی طرف جہاد کے لیے روانہ فرمایا پھر ان کے پیچھے کسی کو بلانے کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ ان کے پیچھے کی بجائے ان کے سامنے کی طرف سے آنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو حکم فرمایا۔ کہ جب تک ان (کفار) کو دعوت اسلام نہ دے لیں ان سے اس وقت تک لڑائی نہ کریں۔