۴۹۸۲: فَاِذَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُفْیَانَ الْجَحْدَرِیُّ .ح وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا بَکْرُ بْنُ بَکَّارٍ .ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ الضَّرِیْرُ قَالُوْا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ اِلٰی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ فَقَالَ : اِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ فِیْ أَوَّلِ الْاِسْلَامِ ، أَغَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، وَہُمْ غَارُّوْنَ ، وَأَنْعَامُہُمْ عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَہُمْ ، وَسَبَیْ سَبْیَہُمْ ، وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ
٤٩٨٢: ابو اسحاق الضریر نے بتلایا کہ ہمیں عبداللہ بن عون نے خبر دی کہ میں نے نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ لڑائی سے پہلے کیا دعوت ضروری ہے تو انھوں نے جواباً لکھا کہ یہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی مصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ حالت غفلت میں تھے اور ان کے چوپائے پانی پر تھے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور دوسروں کو قیدی بنا لیا اور اسی دن قیدیوں میں جویریہ بنت حارث کو پایا۔
لغات : غار۔ غافل ہونا۔
تخریج : بخافی فی العتق باب ١٣‘ مسلم فی الجہاد ١‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ٩١‘ مسند احمد ٢؍٣١‘ ٣٢۔