۴۹۹۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : أَخَذَ بِالْکُوْفَۃِ رِجَالٌ یُفْشُوْنَ حَدِیْثَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ ، فَکَتَبَ فِیْہِمْ اِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَکَتَبَ عُثْمَانُ أَنْ اعْرِضْ عَلَیْہِمْ دِیْنَ الْحَقِّ ، وَشَہَادَۃَ أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَمَنْ قَبِلَہَا وَتَبَرَّأَ مِنْ مُسَیْلِمَۃَ فَلَا تَقْتُلْہٗ، وَمَنْ لَزِمَ دِیْنَ مُسَیْلِمَۃَ فَاقْتُلْہُ فَقَبِلَہَا رِجَالٌ مِنْہُمْ فَتُرِکُوْا ، وَلَزِمَ دِیْنَ مُسَیْلِمَۃَ رِجَالٌ فَقُتِلُوْا .
٤٩٩١: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ کوفہ میں کچھ ایسے لوگ گرفتار ہوئے جو مسیلمہ کذاب کا مذہب پھیلا رہے تھے۔ پس ان کے متعلق حضرت عثمان بن عفان (رض) کو لکھا تو حضرت عثمان (رض) نے جواباً لکھا کہ ان کے سامنے دین حق پیش کرو اور لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت پیش کرو۔ جو ان میں سے قبول کر کے مسیلمہ سے برأت کا اظہار کرے اس کو مت قتل کرو اور جو مسیلمہ کے دین کو اختیار کئے رہے اسے قتل کر دو ۔ چنانچہ ان میں سے بعض افراد سے قبول کر لیاتو ان کو چھوڑ دیا گیا اور دوسروں نے مسیلمہ کے دین کو اختیار کئے رکھا ان کو قتل کردیا گیا۔