۴۹۹۰: مَا قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ : لَمَّا فَتَحْنَا تُسْتَرَ ، بَعَثَنِیْ أَبُوْ مُوْسَیْ اِلَی عُمَرَ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَیْہِ قَالَ : مَا فَعَلَ حُجَیْبَۃُ وَأَصْحَابُہُ .وَکَانُوْا ارْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلَامِ ، وَلَحِقُوْا بِالْمُشْرِکِیْنَ ، فَقَتَلَہُمُ الْمُسْلِمُوْنَ .فَأَخَذْتُ بِہٖ فِیْ حَدِیْثٍ آخَرَ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْبَکْرِیُّوْنَ ؟ قُلْتُ :یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، اِنَّہُمْ ارْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلَامِ ، وَلَحِقُوْا مَعَہُمْ بِالْمُشْرِکِیْنَ ، فَقُتِلُوْا .فَقَالَ عُمَرُ : لَأَنْ یَکُوْنَ أَخَذْتہمْ سِلْمًا أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا .قُلْتُ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، مَا کَانَ سَبِیْلُہُمْ لَوْ أَخَذْتہمْ سِلْمًا اِلَّا الْقَتْلَ ، قَوْمٌ ارْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلَامِ ، وَلَحِقُوْا بِالْمُشْرِکِیْنَ .فَقَالَ : لَوْ أَخَذْتہمْ سِلْمًا ، لَعَرَضْتُ عَلَیْہِمُ الْبَابَ الَّذِی خَرَجُوْا مِنْہٗ، فَاِنْ رَجَعُوْا ، وَاِلَّا اسْتَوْدَعْتُہُمْ السِّجْنَ .
٤٩٩٠: شعبی نے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے۔ کہ جب ہم نے تستر فتح کرلیا تو ابو موسیٰ اشعری (رض) نے مجھے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں بھیجا۔ جب میں ان کی خدمت میں پہنچا تو انھوں نے پوچھا حجیبہ اور اس کے ساتھیوں نے کیا کیا۔ یہ لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے تھے اور مشرکین سے جا ملے تھے۔ پھر مسلمانوں نے ان کو قتل کردیا۔ پھر میں نے اور بات شروع کردی آپ نے پھر دریافت فرمایا۔ بکر قبیلہ کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا۔ میں نے عرض کیا وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملے تھے۔ پس وہ قتل کردیئے گئے۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اگر میں ان کو سلامت پکڑتا تو اس سے مجھے زیادہ پسند تھا۔ میں نے عرض کیا اے امیرالمؤمنین ! اگر وہ صحیح سلامت پکڑ بھی لیے جاتے تب بھی قتل کے سوا چارا نہ تھا کیونکہ وہ لوگ اسلام سے ارتداد اختیار کر کے مشرکین سے جا ملے تھے۔
آپ نے فرمایا اگر میں ان کو زندہ پکڑتا تو میں ان پر اس دروازے کو وسیع کردیتا جس سے وہ نکلے تھے اگر وہ لوٹ آتے تو ٹھیک ورنہ میں ان کو قید کے سپرد کردیتا۔