۴۹۹۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ ، قَالَ : ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَیْسٍ الْمَاضِرِیِّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ عَلِیٌّ حَتّٰی نَزَلَ بِذِیْ قَارٍ ، فَأَرْسَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ اِلٰی أَہْلِ الْکُوْفَۃِ فَأَبْطَئُوْا عَلَیْہِ ثُمَّ دَعَاہُمْ عَمَّارٌ ، فَخَرَجُوْا .قَالَ زَیْدٌ : فَکُنْتُ فِیْمَنْ خَرَجَ مَعَہٗ۔ قَالَ : فَکَفَّ عَنْ طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ وَأَصْحَابِہِمْ ، وَدَعَاہُمْ حَتَّیْ بَدَئُوْا فَقَاتَلَہُمْ .
٤٩٩٧: زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) متوجہ ہوئے یہاں تک کہ مقام ذی قار میں اترے پھر عبداللہ بن عباس (رض) کو اہل کوفہ کی طرف بھیجا انھوں نے دیر کی پھر ان کو عمار بن یاسر (رض) نے دعوت دی تب وہ نکلے۔ زید کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ نکلنے والوں میں سے تھا راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے طلحہ اور زبیر (رض) اور ان کے ساتھیوں سے درگزر کی اور ان کو رجوع کی دعوت دی یہاں تک کہ وہ سامنے آئے تو ان سے قتال کیا۔