۴۹۹۹: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّیُّ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِیْ مُعَاوِیَۃَ الدُّہْنِیِّ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ أَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوْا ، وَکَانُوْا نَصَارَی ، فَبَعَثَ اِلَیْہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ مَعْقِلَ بْنَ قَیْسٍ التَّیْمِیَّ ، فَقَالَ لَہُمْ : اِذَا حَکَکْتُ رَأْسِی ، فَاقْتُلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ ، وَاسْبُوْا الذُّرِّیَّۃَ .فَأَتٰی عَلَی طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ ، فَقَالَ مَا أَنْتُمْ ؟ فَقَالُوْا : کُنَّا قَوْمًا نَصَارَی ، فَخُیِّرْنَا بَیْنَ الْاِسْلَامِ وَبَیْنَ دِیْنِنَا ، فَاخْتَرْنَا الْاِسْلَامَ ، ثُمَّ رَأَیْنَا أَنْ لَا دِیْنَ أَفْضَلُ مِنْ دِیْنِنَا الَّذِی کُنَّا عَلَیْہِ، فَنَحْنُ نَصَارَی .فَحَکَّ رَأْسَہٗ، فَقُتِلَتِ الْمُقَاتِلَۃُ ، وَسُبِیَتْ الذُّرِّیَّۃُ .قَالَ عَمَّارٌ : فَأَخْبَرَنِیْ أَبُوْ شُعْبَۃَ أَنَّ عَلِیًّا أَتَی بِذَرَارِیِّہِمْ ، فَقَالَ مَنْ یَشْتَرِیْہِمْ مِنِّیْ ؟ فَقَامَ مُسْتَقْتِلَۃُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ الشَّیْبَانِیُّ فَاشْتَرَاہُمْ مِنْ عَلِیْ بِمِائَۃِ أَلْفٍ ، فَأَتَاہُ بِخَمْسِیْنَ أَلْفًا .فَقَالَ عَلِیٌّ اِنِّیْ لَا أَقْبَلُ الْمَالَ اِلَّا کَامِلًا فَدَفَنَ الْمَالَ فِیْ دَارِہٖ، وَأَعْتَقَہُمْ ، وَلَحِقَ بِمُعَاوِیَۃَ ، فَنَفَّذَ عَلِیٌّ عِتْقَہُمْ .
٤٩٩٩: عمار بن ابی معاویہ دھنی نے ابوالطفیل سے روایت کی کہ کچھ لوگ مرتد ہوگئے وہ پہلے نصرانی تھے حضرت علی (رض) نے ان کی طرف معقل بن قیس تیمی کو بھیجا اور ان کو فرمایا جب میں سر کھجاؤں تو لڑنے والوں کو قتل کر دو اور ان کی اولاد کو قید کرلو۔ ان میں سے ایک گروہ کو لایا گیا آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم لوگ پہلے نصرانی تھے ہمیں نصرانیت اور اسلام میں اختیار دیا گیا تو ہم نے اسلام کو اختیار کرلیا پھر ہم نے دیکھا کہ کوئی دین ہمارے دین سے افضل نہیں ہے جس پر کہ ہم پہلے تھے پس ہم نصرانی ہوگئے۔ حضرت علی (رض) نے اپنا سر کھجایا تو ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کردیا گیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا گیا۔ حضرت عمار (رض) کا بیان ہے کہ مجھے ابو شعبہ نے بتلایا کہ حضرت علی (رض) کے پاس ان کی اولاد کو لایا گیا تو آپ نے اعلان فرمایا۔ ان کو کون مجھ سے خریدے گا ؟ مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی نے ان کو حضرت علی (رض) سے ایک لاکھ درہم کے بدلے خرید لیا۔ اس نے پچاس ہزار ادا کئے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا میں مکمل مال لوں گا۔ اس نے مال کو اپنے گھر میں دفن کیا اور ان کو آزاد کردیا اور امیر معاویہ (رض) کے پاس چلا گیا۔ حضرت علی (رض) نے ان کے عتق و آزادی کو برقرار رکھا۔
نوٹ : اس باب میں دو مسائل ذکر کئے کفار کو دعوت دے کر ان سے لڑائی کی جائے گی یا دعوت کی اب حاجت نہیں ‘ مرتد کو دعوت دی جائے گی یا نہیں صحابہ کرام کے اقوال سے دونوں باتیں دعوت دینا اور کبھی نہ دینا دونوں ثابت ہے۔ موقعہ کے مناسب اختیار کیا جائے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل بھی اسی پر دال ہے۔ (مترجم)