hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5014

.

الطحاوي

5014
Al Tahawi
۵۰۱۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیْلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتّٰی یَشْہَدُوْا أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِذَا شَہِدُوْا أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا ، وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا ، وَأَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا ، حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا ، لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ ، وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَیْہِمْ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَدَلَّ مَا ذُکِرَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ یَحْرُمُ بِہٖ دِمَائُ الْکُفَّارِ ، وَیَصِیْرُوْنَ بِہٖ مُسْلِمِیْنَ ، لِأَنَّ ذٰلِکَ ہُوَ تَرْکُ مِلَلِ الْکُفْرِ کُلِّہَا ، وَجَحْدُہَا . وَالْمَعْنَی الْأَوَّلُ مِنْ تَوْحِیدِ اللّٰہِ خَاصَّۃً ، ہُوَ الْمَعْنَی الَّذِیْ نَکُفُّ بِہٖ عَنِ الْقِتَالِ ، حَتّٰی نَعْلَمَ مَا أَرَادَ بِہٖ قَائِلُہٗ، الْاِسْلَامَ أَوْ غَیْرَہٗ، حَتّٰی تَصِحَّ ہٰذِہِ الْآثَارُ وَلَا تَتَضَادَّ .فَلَا یَکُوْنُ الْکَافِرُ مُسْلِمًا مَحْکُوْمًا لَہُ وَعَلَیْہِ، بِحُکْمِ الْاِسْلَامِ حَتّٰی یَشْہَدَ أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَیَجْحَدُ کُلَّ دِیْنٍ سِوَی الْاِسْلَامِ ، وَیَتَخَلَّی مِنْہٗ، کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
٥٠١٣: حمیدالطویل نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ لاالٰہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے دیں اور ہماری نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہیں مگر یہ کہ اسلام کے حق سے۔ ان کے مسلمانوں والے حقوق و فرائض ہوں گے۔ اس روایت میں جو کچھ مذکور ہوا اس سے اس مفہوم کا پتہ چل گیا جس سے کفار کے خون حرام ہوجاتے ہیں اور وہ مسلمان شمار ہوتے ہیں کیونکہ یہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جبکہ وہ تمام ملتوں کو چھوڑ دیں اور انکار کردیں اور پہلی بات جو توحید باری تعالیٰ کے اقرار سے خاص طور پر متعلق ہے وہ ایسا مقصد ہے جس کی وجہ سے ہم لڑائی سے ہاتھ روک لیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے توحید کا اقرار اسلام پر ہے یا غیر اسلام پر ہی ہے اور یہ تاویل اس لیے کی ہے تاکہ یہ آثار درست ہوں آپس میں متضاد نہ رہیں۔ پس کافر پر مسلمان کا حکم اس وقت نہیں لگایا جاسکتا جب تک کہ لا الٰہ الاّ اللہ وان محمدا رسول اللہ کی شہادت نہ دے دے اور اسلام کے علاوہ ہر دین کا انکار کر دے اور اس سے علیحدگی کا اظہار کرے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الایمان باب ١٧‘ الزکوۃ باب ١‘ الصلاۃ باب ٢٨‘ والاستتابہ باب ٣‘ والاعتصام باب ٢؍٢٨‘ مسلم فی الایمان ٣٢‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ١‘ الجہاد باب ٩٥‘ ترمذی فی الایمان باب ١‘ ٢‘ تفسیر سورة ٨٨‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٣‘ والایمان باب ١٥‘ والجہاد باب ١‘ والتحریم باب ١‘ ابن ماجہ فی المقدمہ باب ٩‘ والفتن باب ١‘ دارمی فی السیر باب ١٠‘ والتحریم باب ١‘ مسند احمد ١؍١١‘ ٢٢٤؍٣٣٢‘ ٣‘ ١٩٩؍٢٢٤‘ ٤؍٩‘ ٥؍٢٤٦۔
امام طحاوی (رح) کا قول :
اس روایت میں جو کچھ مذکور ہوا اس سے اس مفہوم کا پتہ چل گیا جس سے کفار کے خون حرام ہوجاتے ہیں اور وہ مسلمان شمار ہوتے ہیں کیونکہ یہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جبکہ وہ تمام ملتوں کو چھوڑ دیں اور انکار کردیں۔
اور پہلی بات جو توحید باری تعالیٰ کے اقرار سے خاص طور پر متعلق ہے وہ ایسا مقصد ہے جس کی وجہ سے ہم لڑائی سے ہاتھ روک لیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے توحید کا اقرار اسلام پر ہے یا غیر اسلام پر ہی ہے اور یہ تاویل اس لیے کی ہے تاکہ یہ آثار درست ہوں آپس میں متضاد نہ رہیں۔
پس کافر پر مسلمان کا حکم اس وقت نہیں لگایا جاسکتا جب تک کہ لا الٰہ الاّ اللہ وان محمد رسول اللہ کی شہادت نہ دے دے اور اسلام کے علاوہ ہر دین کا انکار کر دے اور اس سے علیحدگی کا اظہار کرے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔