hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5016

.

الطحاوي

5016
Al Tahawi
۵۰۱۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ ، قَالَ : ثَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہٖ، قَالَ : قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ ؟ قَالَ أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِی لِلّٰہٖ، وَتَخَلَّیْتُ ، وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ ، وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ فَلَمَّا کَانَ جَوَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ، لَمَّا سُئِلَ عَنْ آیَۃِ الْاِسْلَامِ أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِی لِلّٰہٖ، وَتَخَلَّیْتُ ، وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ ، وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَکَانَ التَّخَلِّیْ ہُوَ تَرْکُ کُلِّ الْأَدْیَانِ اِلَی اللّٰہِ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ کُلَّ مَنْ لَمْ یَتَخَلَّ مِمَّا سِوَی الْاِسْلَامِ ، لَمْ یَعْلَمْ بِذٰلِکَ دُخُوْلَہُ فِی الْاِسْلَامِ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٠١٥: بہز بن حکیم نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسلام کی نشانی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا تم اس طرح کہو میں نے اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور میں نے سب سے بیزاری اختیار کی اور نماز کو تو قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور مشرکین سے الگ ہو کر مسلمانوں کے ہاں آ جاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جواب معاویہ بن حیدہ (رض) کو یہی تھا کہ جبکہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی نشانی دریافت کی کہ تم اسلمت وجہی اللہ کا اقرار کرے اور دوسروں (ادیان) سے بیزاری اختیار کرے نماز کو قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور مشرکین سے کٹ کر مسلمانوں کے ہاں آجائے۔ تخلی کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے دین کو اختیار کرے اور تمام ادیان کو چھوڑ دے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس نے اسلام کے علاوہ سے علیحدگی اختیار نہ کی تو اس کا اسلام میں داخلہ معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ او یوسف ‘ محمد (رح) کا مذہب ہے۔
تخریج : نسائی فی الزکوۃ باب ١‘ ٧٣‘ مسند احمد ٥؍٤‘ ٥۔
جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جواب معاویہ بن حیدہ (رض) کو یہی تھا کہ جبکہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی نشانی دریافت کی کہ تم اسلمت وجہی اللہ کا اقرار کرے اور دوسروں (ادیان) سے بیزاری اختیار کرے نماز کو قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور مشرکین سے کٹ کر مسلمانوں کے ہاں آجائے۔ تخلی کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے دین کو اختیار کرے اور تمام ادیان کو چھوڑ دے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس نے اسلام کے علاوہ سے علیحدگی اختیار نہ کی تو اس کا اسلام میں داخلہ معلوم نہ ہو سکے گا۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ او یوسف ‘ محمد (رح) کا مذہب ہے۔
مسلمان بننے کے لیے شہادتین کے اقرار کے ساتھ ساتھ وہ علامات ہونی چاہئیں جس سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو۔ مثلاً نماز ادا کرنا ‘ زکوۃ دینا اور کفار سے علیحدگی اختیار کرنا وغیرہ۔ اقرار شہادتین سے اس کے قتل سے تو ہاتھ اٹھا لیا جائے گا اور اموال محفوظ ہوجائیں گے مگر مسلمان ہونا ان علامات کے ظاہر ہونے پر ثابت ہوگا۔