۵۰۳۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ وَلَمْ یَذْکُرْ مَا فِیْہِ مِنْ قَوْلِ نَافِعٍ فَحَدَّثْتُ بِذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلٰی آخِرِ الْحَدِیْثِ .قَالُوْا : فَلَمَّا أَجَازَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِخَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، وَرَدَّہُ لِمَا دُوْنَہَا ، ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ حُکْمَ ابْنِ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، حُکْمُ الْبَالِغِیْنَ فِیْ أَحْکَامِہِ کُلِّہَا ، وَأَنَّ حُکْمَ مَنْ کَانَ سِنُّہُ دُوْنَہَا ، حُکْمُ غَیْرِ الْبَالِغِیْنَ فِیْ أَحْکَامِہِ کُلِّہَا اِلَّا مَنْ ظَہَرَ بُلُوْغُہُ قَبْلَ ذٰلِکَ ، لِمَعْنًی مِنَ الْمَعْنَیَیْنِ الْأَوَّلَیْنِ قَالُوْا : وَقَدْ شَدَّ ہٰذَا الْمَعْنَی أَخْذَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بِہٖ، وَتَأْوِیْلَہُ ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ عَلَیْہِ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ یُوْسُفَ ، وَجَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِنَا ، غَیْرَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ ، کَانَ لَا یَرَی الْاِنْبَاتَ دَلِیْلًا عَلَی الْبُلُوْغِ .وَغَیْرُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ لَا یَرَی مَنْ مَرَّتْ عَلَیْہِ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، وَلَمْ یَحْتَلِمْ وَلَمْ یَنْبُتْ فِیْ مَعْنَی الْمُحْتَلِمِیْنَ ، حَتّٰی یَأْتِیَ عَلَیْہِ تِسْعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، فِیْمَا حَدَّثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا خِلَافُ ذٰلِکَ
٥٠٣٢: عبداللہ بن المبارک نے عبیداللہ سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور اس میں نافع کا یہ قول ذکر نہیں کیا فحدثت بذلک۔۔۔ فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عمر (رض) کو پندرہ سال کی عمر میں اجازت دے دی اور اس سے کم عمر والوں کو واپس کردیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ پندرہ سال کی عمر والے کا حکم تمام احکام میں بالغ والا ہے اور جس کی عمر اس سے کم ہو وہ تمام احکام میں نابالغوں کے حکم میں ہے مگر یہ کہ جس کا بلوغ اس سے پہلے دونوں میں سے کسی ایک صورت سے ظاہر ہوجائے اور اس معنی میں مزید پختگی اس سے بھی پیدا ہوگئی کہ اس کو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اختیار کیا اور اس حدیث کی اسی انداز سے تاویل کی ہے۔ یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے۔ امام محمد (رح) کے ہاں زیر ناف بال کا اگنا بلوغت کی دلیل نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) پندرہ سال کی عمر کو حد بلوغت تسلیم نہیں کرتے جب تک کہ احتلام اور زیر ناف بال نہ اگیں۔ اس صورت میں حد بلوغت سلیمان بن شعیب عن ابیہ عن محمد بن الحسن کی روایت کے مطابق انیس سال شمار ہوگی اور امام صاحب سے اس سلسلہ میں مختلف روایات ہیں ملاحظہ ہوں۔
تشریح فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عمر (رض) پندرہ سال کی عمر میں اجازت دے دی اور اس سے کم عمر والوں کو واپس کردیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ پندرہ سال کی عمر والے کا حکم تمام احکام میں بالغ والا ہے اور جس کی عمر اس سے کم ہو وہ تمام احکام میں نابالغوں کے حکم میں ہے مگر یہ کہ جس کا بلوغ اس سے پہلے دونوں میں سے کسی ایک صورت سے ظاہر ہوجائے اور اس معنی میں مزید پختگی اس سے بھی پیدا ہوگئی کہ اس کو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اختیار کیا اور اس حدیث کی اسی انداز سے تاویل کی ہے۔ یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے۔
فریق ثالث امام ابوحنیفہ (رح) و محمد (رح) کا قول : امام محمد (رح) کے ہاں زیر ناف بال کا اگنا بلوغت کی دلیل نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) پندرہ سال کی عمر کو حد بلوغت تسلیم نہیں کرتے جب تک کہ احتلام اور زیر ناف بال نہ اگیں۔ اس صورت میں حد بلوغت سلیمان بن شعیب عن ابیہ عن محمد بن الحسن کی روایت کے مطابق انیس سال شمار ہوگی اور امام صاحب سے اس سلسلہ میں مختلف روایات ہیں ملاحظہ ہوں۔