۵۰۳۳ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِمَاعَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا یُوْسُفَ یَقُوْلُ : قَالَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ اِذَا أَتَتْ عَلَیْہِ ثَمَانِیْ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، فَقَدْ صَارَ بِذٰلِکَ فِیْ أَحْکَامِ الرِّجَالِ وَلَمْ یَخْتَلِفُوْا عَنْہُ جَمِیْعًا فِیْ ہَاتَیْنِ الرِّوَایَتَیْنِ فِی الْجَارِیَۃِ أَنَّہَا اِذَا مَرَّتْ عَلَیْہَا سَبْعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً أَنَّہَا تَکُوْنُ بِذٰلِکَ ، کَاَلَّتِیْ حَاضَتْ .وَکَانَ أَبُوْ یُوْسُفَ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ : یَجْعَلُ الْغُلَامَ وَالْجَارِیَۃَ سَوَائً ، فِیْ مُرُوْرِ الْخَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً عَلَیْہِمَا ، وَیَجْعَلُہُمَا بِذٰلِکَ فِیْ حُکْمِ الْبَالِغِیْنَ .وَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، یَذْہَبُ فِی الْغُلَامِ اِلَی قَوْلِ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہٗ، وَفِی الْجَارِیَۃِ اِلَی قَوْلِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ ، لِأَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، عَلٰی أَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ، فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَدَّہٗ، وَہُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، لَیْسَ لِأَنَّہٗ غَیْرُ بَالِغٍ ، وَلٰـکِنْ لِمَا رَأَی مِنْ ضَعْفِہٖ، وَأَجَازَہُ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، لَیْسَ لِأَنَّہٗ بَالِغٌ ، لٰـکِنْ لِمَا رَأَی مِنْ جَلَدِہِ وَقُوَّتِہٖ۔وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا عَلِمَ کَمْ سِنُّہُ فِی الْحَالَیْنِ جَمِیْعًا .وَقَدْ فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی ہَذَا أَیْضًا .
٥٠٣٣: محمد بن سماعہ نے ابو یوسف (رح) سے نقل کیا کہ میں ان کو امام ابوحنیفہ (رح) سے نقل کرتے سنا کہ جب اس کی عمر اٹھارہ سال ہوجائے تو اس کے احکام مردوں والے ہوں گے۔ ان دونوں روایات میں لڑکی کا حکم سترہ سال کی عمر میں حائضہ شمار کی جائے گی اور امام ابو یوسف (رح) کے ہاں پندرہ سال کی عمر ہی بلوغت شمار ہوگی اور ان کا حکم بالغ والا ہوگا اور امام محمد (رح) لڑکے کے سلسلے میں امام ابو یوسف والا قول اختیار کرتے ہیں اور لڑکی کے سلسلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کو اختیار کرنے والے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل : امام ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) کے خلاف امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ابن عمر کو چودہ سال کی عمر میں واپس کردینا اس لیے نہ تھا کہ وہ بالغ نہیں تھے بلکہ اس میں احتمال یہ ہے کہ ان میں کمزوری ملاحظہ فرمائی اور پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ ان میں مضبوطی ملاحظہ فرما کر اور قوت دیکھ کر ان کو اجازت دے دی۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ دونوں حالتوں میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی عمر معلوم نہ کی ہو سمرہ بن جندب (رض) کے ساتھ آپ کا یہ طرز عمل اس بات کا مؤید ہے اور امام ابو یوسف (رح) کے ہاں پندرہ سال کی عمر ہی بلوغت شمار ہوگی اور ان کا حکم بالغ والا ہوگا اور امام محمد (رح) لڑکے کے سلسلے میں امام ابو یوسف والا قول اختیار کرتے ہیں اور لڑکی کے سلسلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کو اختیار کرنے والے ہیں۔
امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل : امام ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) کے خلاف امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ابن عمر کو چودہ سال کی عمر واپس کردینا اس لیے نہ تھا کہ وہ بالغ نہیں تھے بلکہ اس میں احتمال یہ ہے کہ ان میں کمزوری ملاحظہ فرمائی اور پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ ان میں مضبوطی ملاحظہ فرما کر اور وقت دیکھ کر ان کو اجازت دے دی۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ دونوں حالتوں میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی عمر معلوم نہ کی ہو سمرہ بن جندب (رض) کے ساتھ آپ کا یہ طرز عمل اس بات کا مؤید ہے۔