۵۰۳۵ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : عَرَضَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ یَوْمَ بَدْرٍ ، فَاسْتَصْغَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَجَازَنَا یَوْمَ أُحُدٍ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَجَازَ ابْنَ عُمَرَ یَوْمَ أُحُدٍ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَخَالَفَ ذٰلِکَ مَا رَوَیْنَا فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَلَمَّا انْتَفٰی أَنْ یَکُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ حُجَّۃٌ لِأَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ ، عَلَی الْفَرِیْقِ الْآخَرِ ، الْتَمَسْنَا حُکْمَ ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، لِنَسْتَخْرِجَ مِنَ الْقَوْلَیْنِ اللَّذَیْنِ ذَہَبَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ اِلٰی أَحَدِہِمَا ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ اِلَی الْآخَرِ مِنْہُمَا ، قَوْلًا صَحِیْحًا .فَاعْتَبَرْنَا ذٰلِکَ ، فَرَأَیْنَا اللّٰہَ قَدْ جَعَلَ عِدَّۃَ الْمَرْأَۃِ ، اِذَا کَانَتْ مِمَّنْ تَحِیْضُ ، ثَلَاثَۃَ قُرُوْئٍ ، وَجَعَلَ عِدَّتَہَا اِذَا کَانَتْ مِمَّنْ لَا تَحِیْضُ ، مِنْ صِغَرٍ أَوْ کِبَرٍ ، ثَلَاثَۃَ أَشْہُرٍ ، فَجَعَلَ بَدَلًا مِنْ حَیْضَۃٍ شَہْرًا ، وَقَدْ تَکُوْنُ الْمَرْأَۃُ تَحِیْضُ فِیْ أَوَّلِ الشَّہْرِ ، وَفِیْ آخِرِہِ فَیَجْتَمِعُ لَہَا فِیْ شَہْرٍ وَاحِدٍ حَیْضَتَانِ ، وَقَدْ یَکُوْنُ بَیْنَ حَیْضَتَیْہَا شَہْرَانِ وَالْأَکْثَرُ .فَجَعَلَ الْخَلَفَ فِی الْحَیْضَۃِ عَنْ أَغْلَبِ أُمُوْرِ النِّسَائِ ، لِأَنَّ أَکْثَرَہُنَّ تَحِیْضُ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ حَیْضَۃً وَاحِدَۃً .فَلَمَّا کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ ، وَرَأَیْنَا الِاحْتِلَامَ یَجِبُ بِہٖ لِلصَّبِیِّ حُکْمُ الْبَالِغِیْنَ ، فَاِذَا عُدِمَ الِاحْتِلَامُ ، وَأُجْمِعَ أَنَّ ہُنَاکَ خَلَفًا مِنْہٗ، فَقَالَ قَوْمٌ : ہُوَ بُلُوْغُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، وَقَالَ آخَرُوْنَ : بَلْ ہُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ السِّنِیْنَ ، جُعِلَ ذٰلِکَ الْخَلَفُ عَلٰی أَغْلَبِ مَا یَکُوْنُ فِیْہِ الِاحْتِلَامُ ، فَہُوَ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً ، لِأَنَّ أَکْثَرَ الِاحْتِلَامِ احْتِلَامُ الصِّبْیَانِ ، وَحَیْضُ النِّسَائِ فِیْ ہٰذَا الْمِقْدَارِ ، یَکُوْنُ ، وَلَا یُجْعَلُ عَلٰی أَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ ، وَلَا عَلٰی أَکْثَرَ لِأَنَّ ذٰلِکَ اِنَّمَا یَکُوْنُ فِی الْخَاصِّ ، وَلَا نَعْتَبِرُ حُکْمَ الْخَاصِّ فِیْ ذٰلِکَ ، وَلٰـکِنْ نَعْتَبِرُ أَمْرَ الْعَامِّ ، کَمَا لَمْ نَعْتَبِرْ أَمْرَ الْخَاصِّ فِیْمَا جُعِلَ خَلَفًا فِی الْحَیْضِ ، وَاعْتُبِرَ أَمْرُ الْعَامِّ .فَثَبَتَ بِالنَّظَرِ الصَّحِیْحِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ کُلِّہٖ، مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، بِالنَّظَرِ لَا بِالْأَثَرِ ، وَانْتَفَی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ وَمُحَمَّدٌ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فِیْ ہٰذَا نَحْوٌ مِنْ قَوْلِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ الَّذِیْ رَوَاہُ .أَبُوْ یُوْسُفَ عَنْہُ .
٥٠٣٥: ابو اسحاق نے براء بن عازب (رض) سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں بدر کے دن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور ابن عمر (رض) کو بلایا پھر چھوٹا قرار دے کر اجازت نہ دی اور احد کے دن اجازت مرحمت فرما دی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عمر (رض) کو احد کے دن چودہ سال کی عمر میں لڑنے کی اجازت دے دی اور یہ بات روایت ابن عمر (رض) کے خلاف ہے اب ان میں کوئی روایت دوسرے کے خلاف حجت و دلیل نہیں بن سکی تو اب قیاس کے ذریعہ اس کا حکم تلاش کیا تاکہ دونوں میں اصح ترین قول کو پاسکیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کے اقوال پر غور کیا تو غور و فکر میں یہ بات سامنے آئی کہ جس عورت کو حیض آتا ہو اس کی عدت تین قروء مقرر فرمائی گئی اور اگر نو عمری یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ مقرر فرمائی گئی تو ایک حیض کے بدلے میں شریعت نے ایک ماہ کو مقرر کردیا کیونکہ عورت کو بعض اوقات ہر ماہ کی ابتداء اور اس کی انتہاء میں حیض آجاتا ہے اس طرح ایک ماہ میں دو حیض اکٹھے ہوگئے اور بعض اوقات اس کے دو حیضوں کے درمیان دو ماہ یا اس سے بھی زیادہ فاصلہ ہوجاتا ہے۔ تو عام عورتوں کا لحاظ کر کے حیض کا قائم مقام مقرر فرما دیا یعنی تین ماہ کیونکہ عام عورتوں کو ہر ماہ میں ایک حیض آتا ہے جب یہ معاملہ اس طرح ہے تو ہم نے دوسری طرف نظر کی کہ احتلام سے بچوں کے لیے بالغوں کا حکم لازم ہوجاتا ہے اور جب احتلام نہ ہو تو اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کا کوئی نائب ہو ایک جماعت نے پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانا اس کا نائب قرار دیا۔ دوسروں نے کہا کہ اس سے کچھ زیادہ عمر اس کا نائب ہے یہ ٹھیک ہے کہ جس عمر میں عام طور پر احتلام ہوتا ہے وہ پندرہ سال ہے تو اسی وجہ سے نائب مقرر کیا گیا کیونکہ بچوں کے احتلام اور بچیوں کے حیض کی یہی عمر ہے اس سے کم یا زیادہ عمر کو مقرر نہیں فرمایا کیونکہ اس کا تعلق خصوصی حالات سے ہے اور اس سلسلے میں خاص کا حکم ہم معتبر قرار نہیں دیتے۔ بلکہ عام کے حکم کا اعتبار کرتے ہیں۔ جس طرح کہ حیض میں عمومی حکم کا اعتبار کر کے نائب (تین ماہ) مقرر کردیئے گئے پس اس سے امام ابو یوسف (رح) کا قول قیاس کے ساتھ موافق ثابت ہوا اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) کے قول کی نفی ہوگئی۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) کا قول اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کے موافق ہے جس کو امام ابو یوسف (رح) نے نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی المغازی باب ٦‘ مسند احمد ٤؍٢٩٨۔