۵۰۳۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : سَمِعْتُ قِیْسَا یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہٗ ہَلْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْتُلُ مِنْ صِبْیَانِ الْمُشْرِکِیْنَ أَحَدًا .فَکَتَبَ اِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَنَا حَاضِرٌ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَقْتُلُ مِنْہُمْ أَحَدًا .
٥٠٣٨: یزید بن ہرمز نے کہا کہ نجدہ ابن عباس (رض) کی طرف خط لکھ کر سوال کررہا تھا کہ کیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے تو ابن عباس (رض) نے ان کی طرف لکھا جبکہ میں موجود تھا۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کرتے تھے۔