۵۰۶۳ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَلَمَّا کَانَ الْمَعْضُوْضُ نَزَعَ یَدَہٗ ، وَاِنْ کَانَ فِیْ ذٰلِکَ تَلَفُ ثَنَایَا غَیْرِہٖ، وَکَانَ حَرَامًا عَلَیْہِ الْقَصْدُ اِلَی نَزْعِ ثَنَایَا غَیْرِہِ بِغَیْرِ اِخْرَاجِ یَدِہِ مِنْ فِیْہِ، وَلَمْ یَکُنِ الْقَصْدُ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی غَیْرِ التَّلَفِ ، کَالْقَصْدِ اِلَی التَّلَفِ فِی الْاِثْمِ ، وَلَا فِیْ وُجُوْبِ الْعَقْلِ ، کَانَ کَذٰلِکَ کُلُّ مَنْ لَہٗ أَخْذُ شَیْئٍ ، وَفِیْ أَخْذِہِ اِیَّاہُ تَلَفُ غَیْرِہٖ، مِمَّا یَحْرُمُ عَلَیْہِ الْقَصْدُ اِلَی تَلَفِہِ کَانَ لَہُ الْقَصْدُ اِلٰی أَخْذِ مَا لَہٗ أَخْذُہُ مِنْ ذٰلِکَ وَاِنْ کَانَ فِیْہِ تَلَفُ مَا یَحْرُمُ عَلَیْہِ الْقَصْدُ اِلَی تَلَفِہِ فَکَذٰلِکَ الْعَدُوُّ ، قَدْ جُعِلَ لَنَا قِتَالُہُمْ ، وَحَرُمَ عَلَیْنَا قَتْلُ نِسَائِہِمْ وَوِلْدَانِہِمْ .فَحَرَامٌ عَلَیْنَا الْقَصْدُ اِلَی مَا نُہِیْنَا عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ ، وَحَلَالٌ لَنَا الْقَصْدُ اِلَی مَا أُبِیْحَ لَنَا ، وَاِنْ کَانَ فِیْہِ تَلَفُ مَا قَدْ حَرُمَ عَلَیْنَا مِنْ غَیْرِہِمْ ، وَلَا ضَمَانَ عَلَیْنَا فِیْ ذٰلِکَ ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ
٥٠٦٣: شعبہ نے قتادہ سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے۔ ان روایات سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے۔ جس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا جب اس نے اپنا ہاتھ کھینچا اگرچہ اس کی وجہ سے دوسرے آدمی کے دانت گرگئے اس کے منہ سے ہاتھ کو نکالنے کے بغیر دانتوں کو کسی اور طریقے سے نکالنے کا قصد کرنا بھی حرام تھا اور اس سلسلے میں دانتوں کے تلف کرنے کا قصد بھی نہیں تھا اور یہ اسی قصد کی طرح ہے جو تلف کرنے میں گناہ ہے اور دیت کے لازم ہونے کے اعتبار سے برابر نہیں تو بالکل اسی طرح ہر وہ آدمی جس کو کسی چیز کے لینے کا اختیار ہو اور اس کے لینے میں کسی دوسرے کا ایسا نقصان ہوتا ہو جس کا ارادہ کرنا حرام ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ آدمی اپنی چیز لے سکتا ہے خواہ دوسرے کی وہ چیز ضائع ہوجائے جس کا قصداً ضائع کرنا حرام ہے بالکل اسی طرح معاملہ دشمن کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑنے کا حکم دیا اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا بھی ہم پر حرام کردیا پس جس بات سے ہمیں روکا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا حرام ہے لیکن جس چیز کو ہمارے لیے جائز کیا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا بھی جائز ہے اگرچہ اس کے حصول کے لیے کوئی ایسی چیز ضائع ہوتی ہو جس کا ضائع کرنا حرام ہو۔ فلہذا اس سلسلے میں ہم ہر کوئی تاوان بھی لازم نہیں ہوگا۔ ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد (رح) کا یہی قول ہے۔