۵۰۸۲ : حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْبَرَائَ بْنَ مَالِکٍ ، أَخَا أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، بَارَزَ مَرْزُبَانَ الضَّرَارَۃَ فَطَعَنَہُ طَعْنَۃً ، فَکَسَرَ الْقَرَبُوْسَ وَخَلَصْتُ اِلَیْہِ فَقَتَلَہٗ فَقَوَّمَ سَلَبَہُ ثَلَاثِیْنَ أَلْفًا ، فَلَمَّا صَلَّیْنَا الصُّبْحَ غَدَا عَلَیْنَا عُمَرُ ، فَقَالَ لِأَبِیْ طَلْحَۃَ : اِنَّا کُنَّا لَا نُخَمِّسُ الْأَسْلَابَ ، وَاِنَّ سَلَبَ الْبَرَائِ قَدْ بَلَغَ مَالًا وَلَا أَرَانَا اِلَّا خَامِسِیْہِ فَقَوَّمْنَاہُ ثَلَاثِیْنَ أَلْفًا ، فَدَفَعْنَا اِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ سِتَّۃَ آلَافٍ فَہٰذَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ یَقُوْلُ اِنَّا کُنَّا لَا نُخَمِّسُ الْأَسْلَابَ ثُمَّ خَمَّسَ سَلَبَ الْبَرَائِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہُمْ کَانُوْا لَا یُخَمِّسُوْنَ ، وَلَہُمْ أَنْ یُخَمِّسُوْا ، وَأَنَّ الْأَسْلَابَ ، لَا یَجِبُ لِلْقَاتِلِیْنَ دُوْنَ أَہْلِ الْعَسْکَرِ .وَقَدْ حَضَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، مَا کَانَ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ مَنْ قَتَلَ قَتِیْلًا فَلَہُ سَلَبُہُ فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عِنْدَہُ عَلَی کُلِّ مَنْ قَتَلَ قَتِیْلًا فِیْ تِلْکَ الْحَرْبِ خَاصَّۃً وَقَدْ کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ حَضَرَ ذٰلِکَ أَیْضًا بِحُنَیْنٍ ، وَقَضَی لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَسْلَابِ الْقَتْلَی الَّذِیْنَ قَتَلَہُمْ فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عِنْدَہُ مُوْجِبًا ، بِخِلَافِ مَا أَرَادَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ سَلَبِ الْمَرْزُبَانِ وَقَدْ کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ حَاضِرًا ذٰلِکَ أَیْضًا ، مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ بِحُنَیْنٍ ، وَمِنْ عُمَرَ فِیْ یَوْمِ الْبَرَائِ فَکَانَ ذٰلِکَ - عِنْدَہُ - عَلٰی مَا رَأَیْ عُمَرُ ، عَلٰی خِلَافِ ذٰلِکَ فَہٰؤُلَائِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، لَمْ یَجْعَلُوْا قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ مَنْ قَتَلَ قَتِیْلًا فَلَہُ سَلَبُہُ عَلَی النَّسْخِ لِلْحُکْمِ الْمُتَقَدِّمِ لِذٰلِکَ ، فِیْ یَوْمِ بَدْرٍ۔
٥٠٨٢: حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کے بھائی براء بن مالک (رض) نے مرزبان ضرارہ سے مقابلہ کیا۔ انھوں نے اس کو ایک نیزہ مارا جو زین کی اگلی جانب کو توڑتا ہوا اس کو جا لگا جس سے وہ ہلاک ہوگیا اس کے سامان کی قیمت تیس ہزار لگی۔ جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ہمارے پاس حضرت عمر (رض) آئے اور حضرت ابو طلحہ (رض) کو کہنے لگے۔ ہم مقتول کے سامان کا خمس نہیں لیا کرتے مگر براء کا سامان ایک بڑی مقدار مال کو پہنچ گیا ہے ہمارا خیال ہے کہ اس کا خمس لیں ہم نے اس کی قیمت کا اندازہ تیس ہزار لگایا۔ پس ہم نے چھ ہزار حضرت عمر (رض) کو دے دیا۔ یہ عمر (رض) فرما رہے ہیں ہم سامان مقتول کا خمس نہیں لیتے۔ پھر براء (رض) کے سامان سے خمس وصول کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ سامان مقتول کا خمس نہ تھا اور وہ خمس لے بھی سکتے تھے کیونکہ وہ سامان قاتلین کو دینا لازم نہ تھا کہ اس میں کسی اور لشکری کو شریک نہ کیا جائے۔ حالانکہ صرف حضرت عمر (رض) بھی حنین کے روز جب ” من قتل قتیلا فلہ سلبہ “ فرمایا گیا موجود تھے۔ تو ان کے نزدیک اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ فقط حنین کی لڑائی کے لیے ہے اور حضرت ابو طلحہ (رض) خود حنین میں موجود تھے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ان تمام مقتولین کے سامان کا فیصلہ فرمایا۔ جو ان کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔ وہ سامان ان کے ہاں لازم نہ تھا۔ بخلاف اس کے جس کا ارادہ فاروق (رض) نے مرزبان کے سامان میں کیا اور غزوہ حنین میں تو حضرت انس (رض) خود موجود تھے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حنین کے روز فرمایا اور حضرت عمر (رض) سے جو براء (رض) کے دن پیش آیا وہ ان کے ہاں بھی اس ارشاد کے خلاف تھا۔ پس ان اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم حنین والے ارشاد ” من قتل قتیلا فلہ سلبہ “ کو یوم بدر والے حکم کا ناسخ قرار نہیں دیا۔