۵۰۸۹ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِیْ لَیْلَی یُحَدِّثُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَۃَ أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَشْکُو اِلَیْہِ أَثَرَ الرَّحْی فِیْ یَدِہَا وَقَدْ بَلَغَہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَاہُ سَبْیٌ ، فَأَتَتْہُ تَسْأَلُہُ خَادِمًا ، فَلَمْ تَلْقَہٗ، وَلَقِیَتْہَا عَائِشَۃُ ، فَأَخْبَرَتْہَا الْحَدِیْثَ فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْہُ بِذٰلِکَ قَالَ : فَأَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَہَبْنَا لِنَقُوْمَ فَقَالَ مَکَانَکُمَا فَقَعَدَ بَیْنَنَا حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَیْہِ عَلٰی صَدْرِی فَقَالَ أَلَا أَدُلُّکُمَا عَلَی خَیْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا تُکَبِّرَانِ اللّٰہَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِیْنَ ، وَتُسَبِّحَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ ، وَتَحْمَدَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ ، اِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا ، فَاِنَّہٗ خَیْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ
٥٠٨٩: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ہاتھوں میں چکی کے نشانات کی شکایت کر رہی تھیں اور حاضری اس وقت ہوئی جب ان کو اطلاع ملی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں تو وہ ایک خادم کا مطالبہ لے کر حاضر ہوئیں مگر آپ سے ملاقات نہ ہوئی۔ حضرت عائشہ (رض) ان سے ملیں حضرت فاطمہ (رض) نے ان کو بات بتلائی۔ پس جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع دی حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں اس وقت تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا اپنی اپنی جگہ پر رہو پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدمین مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی اور آپ نے ارشاد فرمایا۔ کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتلا دوں جو اس سے بہت بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی ہے۔ تم دونوں ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ٣٣ مرتبہ الحمداللہ اس وقت پڑھا کرو جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ۔ یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔
تخریج : بخاری فی فضائل الصحابہ باب ٩‘ والنفقات باب ٦‘ والدعوات باب ١٠‘ مسلم فی الذکر ٨٠؍٨١‘ ابو داؤد فی الادب باب ١٠٠‘ ترمذی فی الدعوات باب ٢٤۔