۵۰۹۰ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَلِیِّ أَنَّہٗ قَالَ لِفَاطِمَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ قَدْ جَائَ اللّٰہُ أَبَاک بِسَعَۃٍ وَرَقِیْقٍ فَأْتِیْہِ فَاطْلُبِیْ مِنْہُ خَادِمًا فَأَتَتْہٗ، فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ وَاللّٰہِ لَا أُعْطِیکُمَا وَأَدَعُ أَہْلَ الصُّفَّۃِ یَطْوُوْنَ بُطُوْنَہُمْ ، وَلَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَیْہِمْ ، وَلٰـکِنْ أَبِیْعُہَا ، وَأُنْفِقُ عَلَیْہِمْ ، أَلَا أَدُلُّکُمَا عَلَی خَیْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا ؟ عَلَّمَنِیْہِ جَبْرَائِیْلُ ، کَبِّرَا فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا ، وَسَبِّحَا عَشْرًا ، وَاحْمَدَا عَشْرًا ، وَاِذَا آوَیْتُمَا اِلَی فِرَاشِکُمَا ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ مَا فِیْ حَدِیْثِ سُلَیْمَانَ .
٥٠٩٠: عطاء بن سائب نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فاطمہ (رض) کو ایک دن کہا کہ تمہارے والد کے ہاں خوش حالی مال کی صورت میں اور غلام آئے ہیں۔ تم اپنے والد کے ہاں جاؤ اور ان سے خادم طلب کرو۔ حضرت فاطمہ (رض) آئیں اور اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کیا تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اصحاب صفہ کو بھوک میں لپٹتا چھوڑ کر تم دونوں کو خادم نہ دوں گا۔ میرے پاس ان پر خرچ کے لیے کچھ نہیں۔ میں غلاموں کو فروخت کر کے ان پر خرچ کروں گا۔ کیا میں تم دونوں کو اس سوال سے بہتر چیز نہ بتلا دوں۔ وہ چیز مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائی ہے ہر نماز کے بعد ١٠ مرتبہ اللہ اکبر ‘ ١٠ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ١٠ مرتبہ الحمد للہ پڑھ لیا کرو اور جب بستروں پر لیٹ جاؤ تو پڑھ لیا کرو۔ پھر اس طرح ذکر کیا جیسا کہ سلیمان کی روایت ٥٠٨٩ میں ہے۔