hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5093

.

الطحاوي

5093
Al Tahawi
۵۰۹۲ : مَا قَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ فَقُلْتُ :رَأَیْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ حَیْثُ وَلِیَ الْعِرَاقَ ، وَمَا وَلِیَ مِنْ أُمُوْرِ النَّاسِ ، کَیْفَ صَنَعَ فِیْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی قَالَ : سَلَکَ بِہٖ - وَاللّٰہِ - سَبِیْلَ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قُلْتُ :وَکَیْفَ ؟ وَأَنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ مَا تَقُوْلُوْنَ ؟ قَالَ : اِنَّہٗ - وَاللّٰہِ - مَا کَانَ أَہْلُہُ یَصْدُرُوْنَ اِلَّا عَنْ رَأْیِہِ قُلْتُ :فَمَا مَنَعَہٗ؟ قَالَ : کَرِہَ - وَاللّٰہِ - أَنْ یُدَّعَیْ عَلَیْہِ خِلَافُ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَہٰذَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَدْ أَجْرَاہُ عَلٰی مَا کَانَ أَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَجْرَیَاہُ عَلَیْہِ، لِأَنَّہٗ رَأَیْ ذٰلِکَ عَدْلًا وَلَوْ کَانَ رَأْیُہٗ، خِلَافَ ذٰلِکَ ، مَعَ عِلْمِہٖ، وَدِیْنِہٖ، وَفَضْلِہِ - اِذًا لَرَدَّہٗ اِلٰی مَا رَأٰی وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥٠٩٢: محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (رح) سے پوچھا کہ حضرت علی (رض) کو جب عراق کی حکومت ملی اور لوگوں کے معاملات ان کے سپرد ہوئے تو آپ نے قرابت داروں کے حصہ کے سلسلہ میں کیا عمل کیا۔ انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! وہ ابوبکر و عمر (رض) کے راستہ پر چلے۔ میں نے پوچھا کیسے ؟ حالانکہ تم فلاں فلاں بات کہتے ہو ؟ وہ کہنے لگے اللہ کی قسم ! ان کے گھر والے تو ان کی رائے سے لوٹنے والے تھے۔ میں نے کہا پھر انھوں نے کیوں نہ کیا ؟ کہنے لگے۔ انھوں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ لوگ ان کے خلاف یہ کہیں گے کہ انھوں نے حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے طرز عمل کے خلاف کیا۔ یہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں کہ انھوں نے اسی بات کو ہی جاری رکھا جس کو ابوبکر و عمر (رض) نے جاری کیا تھا کیونکہ انھوں نے اسی کو عدل سمجھا۔ اگر ان کی رائے اس کے مخالف ہوتی تو علم ‘ فضل اور دینی عظمت کے تقاضے سے وہ ضرور اس رائے کو رد فرما دیتے۔ انھوں نے اس روایت کو بھی بطور دلیل پیش کیا۔
یہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں کہ انھوں نے اسی بات کو ہی جاری رکھا جس کو ابوبکر و عمر (رض) نے جاری کیا تھا کیونکہ انھوں نے اسی کو عدل سمجھا۔ اگر ان کی رائے اس کے مخالف ہوتی تو علم ‘ فضل اور دینی عظمت کے تقاضے سے وہ ضرور اس رائے کو رد فرما دیتے۔