۵۰۹۳ : بِمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنَ عَلِی ، عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ قَالَ : أَمَّا قَوْلُہٗ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ فَہُوَ مِفْتَاحُ کَلَامٍ ، لِلّٰہِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ ، لِلرَّسُوْلِ ، وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ .وَاخْتَلَفَ النَّاسُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَوْمٌ : مِنْہُمْ سَہْمُ ذَوِی الْقُرْبَی لِقَرَابَۃِ الْخَلِیْفَۃِ .وَقَالَ قَوْمٌ : سَہْمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَعْدِہِ ثُمَّ أَجْمَعُوْا رَأْیَہُمْ أَنْ جَعَلُوْا ہٰذَیْنِ السَّہْمَیْنِ فِی الْخَیْلِ وَالْعُدَّۃِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَکَانَ ذٰلِکَ فِیْ اِمَارَۃِ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالُوْا : أَفَلَا تَرَی أَنَّ ذٰلِکَ مِمَّا قَدْ أَجْمَعَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ رَجَعَ اِلَی الْکُرَاعِ وَالسِّلَاحِ الَّذِیْ تَکُوْنُ عُدَّۃً لِلْمُسْلِمِیْنَ ، لِقِتَالِ عَدُوِّہِمْ وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ لِذَوِی قَرَابَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَا مُنِعُوْا مِنْہٗ، وَلَمَا صُرِفُوْا اِلَی غَیْرِہِمْ ، وَلَا خَفِیَ ذٰلِکَ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، مَعَ عِلْمِہِ فِیْ أَہْلِہٖ ، وَتَقَدُّمِہِ فِیْہِمْ وَقَدْ قَالَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ جَوَابِہٖ لِنَجْدَۃَ ، لَمَّا کَتَبَ اِلَیْہِ یَسْأَلُہٗ عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٠٩٣: قیس بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد بن علی سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق دریافت کیا واعلموا انما غنمتم من شئی فان اللہ خمسہ “ (الانفال ٤١) تو کہنے لگے فان اللہ خمسہ سے تو کلام کو شروع فرمایا عبارت اس طرح ہے ” اللہ الدنیا والآخرہ وللرسول ولذی القربٰی والیتامٰی والمساکین ای خمسہ “ دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرابت داروں اور یتامی اور مساکین کے لیے خمس ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد صحابہ کرام اس بارے میں مختلف ہوئے۔ ایک جماعت کہتی تھی کہ رشتہ داروں کا حق خلیفہ کی قرابت کی وجہ سے ہے۔ بعض نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کا حصہ خلیفہ وقت کے لیے ہوگا۔ پھر اس بات پر سب متفق ہوگئے کہ ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور جہاد کی تیاری کے لیے صرف کیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر و عمر (رض) کی خلافت میں یہی طریق رائج رہا۔ ذرا غور فرمائیں کہ یہ صحابہ کرام کا متفقہ فیصلہ ہے اور یہ حصہ ان گھوڑوں اور اسلحہ کی طرف لوٹتا ہے۔ جس کو دشمن کے بالمقابل مسلمانوں نے تیار کیا ہے اور اگر یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت کی وجہ سے حصہ مقرر ہوتا تو وہ اس کو نہ روکتے اور اس کو قطعاً کسی دوسرے مصرف میں نہ لگاتے اور یہ بات حسن بن محمد (رح) جیسے مستند علم کے شہ سوار پر ہرگز مخفی نہ رہتی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے نجدہ کے خط کے جواب میں ذی القربیٰ کا حصہ دریافت کرنے پر یہی بات فرمائی۔ روایت یہ ہے۔