۵۰۹۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : سَمِعْت قَیْسًا یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ بْنُ عَامِرٍ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَسْأَلُہٗ عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی الَّذِیْ ذٰکَرَ اللّٰہٗ، وَفَرَضَ لَہُمْ فَکَتَبَ اِلَیْہِ وَأَنَا شَاہِدٌ کُنَّا نَرَی أَنَّہُمْ قَرَابَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَبَیْ ذٰلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَہٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا یُخْبِرُ أَنَّ قَوْمَہُمْ أَبَوْا عَلَیْہِمْ أَنْ یَکُوْنَ لَہُمْ ، وَلَمْ یُظْلَمْ مَنْ أَبَیْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا أُرِیْدَ فِیْ ذٰلِکَ بِقَرَابَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہُوَ مَا ذَکَرْنَا مِنَ الْفَقْرِ وَالْحَاجَۃِ فَہٰذِہِ حُجَجُ مَنْ ذَہَبَ اِلٰی أَنَّ ذَوِی الْقُرْبَی ، لَا سَہْمَ لَہُمْ مِنَ الْخُمُسِ ، وَأَنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ لَہُمْ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ بَعْدَہُ وَقَدْ خَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : کَانَ لَہُمْ سَہْمٌ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ خُمُسُ الْخُمُسِ ، وَکَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَضَعَہُ فِیْمَنْ شَائَ مِنْہُمْ وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٠٩٥: یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ بن عامر نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا کہ ذوی القربیٰ کے حصہ کا کیا حکم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا اور اس کو ان کے لیے مقرر کیا۔ تو انھوں نے لکھا اور میں اس موقعہ پر موجود تھا۔ کہ ہمارا خیال یہی تھا کہ اس سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت مراد ہے۔ مگر ہماری قوم نے ہمیں دینے سے انکار کردیا۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ ہماری قوم نے یہ حصہ ہمیں دینے سے انکار کردیا مگر جنہوں نے انکار کیا انھوں نے انکار کیے جانے والوں پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ تو کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت سے یہاں وہی مراد ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا یعنی فقرومحتاجی کی صورت میں ان کو دیا جائے گا۔ یہ فریق اوّل کے دلائل کا تذکرہ ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت داروں کے لیے خمس میں سے کوئی حصہ مقرر نہیں نہ تو آپ کے زمانہ میں تھا اور نہ بعد میں ہے سوائے اس سبب کے جس کا تذکرہ ہوا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ذوی القربیٰ کا حصہ مقرر تھا اور وہ خمس الخمس یعنی خمس کا پانچواں حصہ ہوتا ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار تھا کہ جس کو چاہیں عنایت فرما دیں ان کی دلیل یہ روایت ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ١٤٠‘ دارمی فی السیر باب ٣٢‘ مسند احمد ١؍٢٤٨۔