۵۰۹۴ : مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ ، قَالَ ثِنَا عَمِّی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ یَزِیْدَ بْنَ ہُرْمُزَ ، حَدَّثَہٗ أَنَّ نَجْدَۃَ صَاحِبَ الْیَمَامَۃِ کَتَبَ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہٗ عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی فَکَتَبَ اِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّہٗ لَنَا وَقَدْ کَانَ دَعَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِیُنْکِحَ مِنْہُ أَیِّمَنَا ، وَیَقْضِیْ عَنْہُ مِنْ غَارِمِنَا ، فَأَبِیْنَا اِلَّا أَنْ یُسَلِّمَہُ لَنَا کُلَّہٗ ، وَرَأَیْنَا أَنَّہٗ لَنَا .
٥٠٩٤: ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ یزید بن ہرمز نے مجھے بیان کیا کہ یمامہ کے حکمران نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف خط لکھا جس میں وہ ان سے ذوی القربیٰ کا حصہ دریافت کررہا تھا تو ابن عباس (رض) نے اس کی طرف لکھ بھیجا۔ کہ یہ حصہ ہمارے لیے ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ہمیں بلایا تھا کہ وہ اس حصہ میں سے ہماری بیواؤں کا نکاح کردیں اور قرض داروں کا قرض اتار دیں۔ تو ہم نے انکار کردیا اور ہم نے کہا کہ ہم اس صورت میں لیں گے کہ آپ تمام حصہ ہمیں دے دیں اور ہمارا خیال یہی تھا کہ یہ ہمارے لیے ہے اور ہمارا حق ہے۔
تخریج : نسائی فی الفئی باب ١‘ مسند احمد ١؍٣٢٠۔