۵۱۱۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِیْدِ الزُّبَیْدِیِّ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّ عَنْبَسَۃَ بْنَ سَعِیْدٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَانَ بْنَ سَعِیْدٍ عَلٰی سَرِیَّۃٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخَیْبَرَ ، بَعْدَمَا فَتَحْنَا ، وَأَنَّ حُزُمَ خَیْلِہِمْ لَلِیْفٌ فَقَالَ أَبَانُ : اقْسِمْ لَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ، فَقُلْتُ :لَا تَقْسِمْ لَہُمْ شَیْئًا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ قَالَ أَبَانُ : أَتَیْتُ بِہَدَایَا وَفْدِ نَجْدٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِجْلِسْ یَا أَبَانُ فَلَمْ یَقْسِمْ لَہُمْ شَیْئًا قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا یُسْہَمُ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ اِلَّا لِمَنْ حَضَرَ الْوَقْعَۃَ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : یُقْسَمُ لِکُلِّ مَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ ، وَلِمَنْ کَانَ غَائِبًا عَنْہَا فِیْ شَیْئٍ مِنْ أَسْبَابِہَا فَمِنْ ذٰلِکَ مَنْ خَرَجَ یُرِیْدُہَا ، فَلَمْ یَلْحَقْ بِالْاِمَامِ حَتَّی ذٰہَبَ الْقِتَالُ ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَحِقَ بِہٖ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ ، قَبْلَ خُرُوْجِہِ مِنْہَا ، قُسِمَ لَہُ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥١١١: ابن شہاب نے عنبسہ بن سعید سے نقل کیا کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) کو سنا کہ وہ سعید بن عاص (رض) سے یہ بات بیان کر رہے تھے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابان بن سعید (رض) کو مدینہ منورہ سے ایک سریہ پر نگران بنا کر نجد کی طرف بھیجا۔ حضرت ابان اور ان کے ساتھی خیبر میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حاضری فتح خیبر کے بعد تھی۔ ان کے گھوڑوں کی لگامیں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی تھیں۔ ابان (رض) کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دو ۔ ابوہریرہ (رض) کہنے لگے میں نے کہا اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بالکل مال غنیمت سے حصہ نہ دیں۔ ابان کہنے لگے میں وفد نجد کے ہدایا لایا ہوں۔ تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابان بیٹھ جاؤ۔ آپ نے ان کو مال غنیمت میں سے کوئی چیز نہ دی۔ امام طحاوی (رح) کا ارشاد : ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مال غنیمت میں سے صرف ان کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں۔ مال غنیمت ہر اس آدمی پر تقسیم ہوگا جو واقعہ میں موجود ہو اور واقعہ کے اسباب میں سے کسی بھی کام کی وجہ سے غائب ہو۔ جیسے وہ آدمی جو غزوہ کا ارادہ کر کے نکلا مگر امام کے پاس اس وقت پہنچا جب لڑائی ختم ہوچکی تھی۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ دارالحرب میں پہنچ جائے جبکہ امام ابھی وہاں سے نہ نکلا ہو۔ تو مال غنیمت میں اس کو حصہ دیا جائے گا۔ انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے۔
تخریج : بخاری باب المغازی باب ٣٨‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ١٤٠۔