۵۱۱۲ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا کُلَیْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ ہَانِئُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ : کُنْتُ قَاعِدًا اِلٰیْ جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَأَتَاہٗ رَجُلٌ فَقَالَ ہَلْ شَہِدَ عُثْمَانُ بَدْرًا ؟ فَقَالَ : لَا ، وَلٰـکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ بَدْرٍ اِنَّ عُثْمَانِ انْطَلَقَ فِیْ حَاجَۃِ اللّٰہِ، وَحَاجَۃِ رَسُوْلِہٖ فَضَرَبَ لَہٗ بِسَہْمٍ ، وَلَمْ یَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَیْرِہٖ۔
٥١١٢: حبیب بن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پہلو میں بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آ کر دریافت کرنے لگا۔ کیا حضرت عثمان (رض) بدر میں شریک تھے ؟
انھوں نے جواب دیا نہیں۔ لیکن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا حصہ مقرر فرمایا۔ ان کے علاوہ کسی غائب رہنے والے کا حصہ مقرر نہیں فرمایا۔
تخریج : ابو داؤد فی الجہاد باب ١٤٠۔