hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5114

.

الطحاوي

5114
Al Tahawi
۵۱۱۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ بْنُ عَمْرٍو الْأَزْدِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیّ ، عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ ، ثُمَّ ذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔اِلَّا ہُنَا أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ ضَرَبَ لِعُثْمَانَ فِیْ غَنَائِمِ بَدْرٍ ، بِسَہْمٍ وَلَمْ یَحْضُرْہَا ، لِأَنَّہٗ کَانَ غَائِبًا فِیْ حَاجَۃِ اللّٰہِ، وَحَاجَۃِ رَسُوْلِہٖ ، فَجَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَمَنْ حَضَرَہَا فَکَذٰلِکَ کُلُّ مَنْ غَابَ عَنْ وَقْعَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ بِأَہْلِ الْحَرْبِ بِشُغْلٍ یَشْغَلُہُ بِہٖ الْاِمَامُ مِنْ أُمُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ ، مِثْلُ أَنْ یَبْعَثَہُ اِلَیْ جَانِبٍ آخَرَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ ، لِقِتَالِ قَوْمٍ آخَرِیْنَ ، فَیُصِیْبُ الْاِمَامُ غَنِیْمَۃً بَعْدَ مُفَارَقَۃِ ذٰلِکَ الرَّجُلِ اِیَّاہٗ، أَوْ یَبْعَثُ بِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَہُ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ اِلَی دَارِ الْاِسْلَامِ ، لِیَمُدَّہُ بِالسِّلَاحِ وَالرِّجَالِ ، فَلَا یَعُوْدُ ذٰلِکَ الرَّجُلُ اِلَی الْاِمَامِ حَتّٰی یَغْنَمَ غَنِیْمَۃً ، فَہُوَ شَرِیْکٌ فِیْہَا ، وَہُوَ کَمَنْ حَضَرَہَا وَکَذٰلِکَ مَنْ أَرَادَہُ فَرَدَّہُ الْاِمَامُ عَنْہَا ، وَشَغَلَہُ بِشَیْئٍ مِنْ أُمُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَہُوَ کَمَنْ حَضَرَہَا .وَ عَلَی ہٰذَا الْوَجْہِ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَسْہَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِیْ غَنَائِمِ بَدْرٍ ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ لَمَا أَسْہَمَ لَہٗ، کَمَا لَمْ یُسْہِمْ لِغَیْرِہِ مِمَّنْ غَابَ عَنْہَا ، لِأَنَّ غَنَائِمَ بَدْرٍ ، وَکَانَتْ وَجَبَتْ لِمَنْ حَضَرَہَا دُوْنَ مَنْ غَابَ عَنْہَا ، اِذًا لَمَا ضَرَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِغَیْرِہِمْ فِیْہَا بِسَہْمٍ ، وَلٰـکِنَّہَا وَجَبَتْ لِمَنْ حَضَرَ الْوَقْعَۃَ ، وَلِکُلِّ مَنْ بَذَلَ نَفْسَہُ لَہَا فَصَرَفَہُ الْاِمَامُ عَنْہَا وَشَغَلَہُ بِغَیْرِہَا مِنْ أُمُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ ، کَمَنْ حَضَرَہَا وَأَمَّا حَدِیْثُ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاِنَّمَا ذٰلِکَ عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَّہَ أَبَانًا اِلَی نَجْدٍ قَبْلَ أَنْ یَتَہَیَّأَ خُرُوْجُہُ اِلَی خَیْبَرَ فَتَوَجَّہَ أَبَانُ فِیْ ذٰلِکَ ، ثُمَّ حَدَثَ مِنْ خُرُوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی خَیْبَرَ مَا حَدَثَ ، فَکَانَ مَا غَابَ فِیْہِ أَبَانٌ مِنْ ذٰلِکَ عَنْ حُضُوْرِ خَیْبَرَ ، وَلَیْسَ ہُوَ شُغْلًا شَغَلَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ حُضُوْرِہَا بَعْدَ اِرَادَتِہِ اِیَّاہٗ، فَیَکُوْنُ کَمَنْ حَضَرَہَا فَہَذَانِ الْحَدِیْثَانِ أَصْلَانِ ، فَکُلُّ مَنْ أَرَادَ الْخُرُوْجَ مَعَ الْاِمَامِ اِلَی قِتَالِ الْعَدُوِّ ، فَرَدَّہُ الْاِمَامُ عَلٰی ذٰلِکَ بِأَمْرٍ آخَرَ مِنْ أُمُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَتَشَاغَلَ بِہٖ حَتَّی غَنِمَ الْاِمَامُ غَنِیْمَۃً ، فَہُوَ کَمَنْ حَضَرَ مَعَ الْاِمَامِ ، یُسْہَمُ لَہُ فِی الْغَنِیْمَۃِ ، کَمَا یُسْہَمُ لِمَنْ حَضَرَہَا وَکُلُّ شَیْئٍ تَشَاغَلَ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ شُغْلِ نَفْسِہٖ، أَوْ شُغْلِ الْمُسْلِمِیْنَ مِمَّا کَانَ دُخُوْلُہُ فِیْہِ مُتَقَدِّمًا ، ثُمَّ حَدَثَ لِلْاِمَامِ قِتَالُ الْعَدُوِّ ، فَتَوَجَّہَ لَہٗ فَغَنِمَ ، فَلَا حَقَّ لِذٰلِکَ الرَّجُلِ فِی الْغَنِیْمَۃِ ، وَہِیَ بَیْنَ مَنْ حَضَرَہَا وَبَیْنَ مَنْ حُکْمُہٗ حُکْمُ الْحَاضِرِ لَہَا وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا ،
٥١١٣: ابو اسحاق فزاری نے کلیب بن وائل سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت یہاں تک نقل کی ہے۔ اس روایت میں غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنائم بدر میں حضرت عثمان (رض) کو حصہ دیا حالانکہ وہ موجود نہ تھے ۔ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کام میں مصروف تھے اس لیے ان کو حاضر شمار کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ سے غائب ہو کہ امام اس کو مسلمانوں کے کسی کام میں مشغول رکھے۔ نمبر 1: مثلاً اس کو دارالحرب کی کسی دوسری جانب دوسرے لوگوں کے ساتھ لڑائی کے لیے بھیجے پھر اس کے جانے کے بعد امام کو مال غنیمت مل جائے۔ دارالحرب میں موجود لوگوں میں سے کسی کو دارالاسلام میں بھیجے تاکہ وہ اسلحہ اور آدمیوں سے اس کی مدد کرے۔ پھر یہ نمائندہ امام کے غنیمت حاصل کرنے تک واپس نہ آئے تو وہ مال غنیمت میں شریک ہوگا۔ وہ موجود لوگوں کی طرح ہوگا۔ وہ آدمی جو جنگ میں جانے کا ارادہ کرے لیکن اس کو واپس کر کے مسلمانوں کے کسی کام میں مصروف کر دے تو وہ بھی اس جنگ میں حاضر لوگوں کی طرح شمار ہوگا۔ ہمارے نزدیک اسی بناء پر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کو غنائم بدر میں حصہ عنایت فرمایا (واللہ اعلم) اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) کو بھی اسی طرح حصہ نہ دیتے جیسا کہ دوسروں کو نہ دیا جو کہ وہاں موجود نہ تھے۔ کیونکہ بدر کے غنائم انہی کے لیے لازم کئے گئے جو وہاں موجود تھے۔ غائبین کے لیے نہ تھے۔ ورنہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ضرور لگاتے۔ لیکن وہ غنائم موجودین کے لیے لازم کئے گئے تھے اور ہر ایسے آدمی کے لیے جس نے اپنے آپ کو بدر کے لیے پیش کیا مگر آپ نے اس کو امور مسلمین میں مصروف کر کے وہاں سے ہٹا دیا۔ روایت ابوہریرہ (رض) کا جواب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابان (رض) کو نجد کی طرف اس وقت روانہ فرمایا جبکہ خیبر کی طرف یلغار کی تیاری بھی نہیں تھی۔ پس ابان کو نجد بھیج دیا (واللہ اعلم) پھر آپ نے خیبر کی تیاری فرمائی۔ پس ابان کا اس حاضری خیبر سے غائب رہنا اس وجہ سے نہ تھا کہ ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی کام میں مشغولیت نے شرکت کے ارادہ کے باوجود الگ کردیا تاکہ ان کو حاضر کی طرح شمار کیا جائے۔ ان دو روایات سے دو قاعدے معلوم ہوتے ہیں کہ جو شخص امام کے ساتھ دشمن کے خلاف قتال میں نکلنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ پھر اس کو خود امام نے مسلمانوں کے کسی دوسرے کام کی ذمہ داری سونپ دی اور وہ اس میں مشغول رہا یہاں تک کہ امام نے قتال میں غنیمت پا لی تو یہ آدمی قتال میں حاضر باش لوگوں میں شمار ہوگا اس کا غنیمت حاضر جیسا حصہ ہوگا۔ ہر وہ چیز جس میں آدمی مشغول رہا اور وہ اس کی ذاتی مشغولیت تھی۔ یا مسلمانوں کا کام تھا مگر وہ قتال میں جانے سے پہلے اس میں مشغول چلا آ رہا تھا۔ پھر امام کو دشمن کے خلاف لڑائی پیش آگئی۔ جس میں اس کو غنیمت مل گئی تو اس آدمی کا غنیمت میں کوئی حق نہیں۔ یہ قتال میں حاضر اور وہ جن کا حکم حاضر جیسا ہے ان کے درمیانی درجے کا آدمی ہے۔ فریق اوّل کی ایک اور دلیل ملاحظہ ہو۔