hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5125

.

الطحاوي

5125
Al Tahawi
۵۱۲۴ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ابْنِ أَبِیْ خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِیْ حَازِمٍ ، قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ مِنْ بَجِیْلَۃَ اِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَتْ اِنَّ قَوْمِیْ رَضُوْا مِنْک مِنَ السَّوَادِ ، بِمَا لَمْ أَرْضَ ، وَلَسْتُ أَرْضَی ، حَتّٰی تَمْلَأَ کَفِّیْ ذٰہَبًا ، أَوْ جَمَلِیْ طَعَامًا أَوْ کَلَامًا ہَذَا مَعْنَاہٗ، فَفَعَلَ ذٰلِکَ بِہَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .قِیْلَ لَہُمْ : ذٰلِکَ أَیْضًا ، عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ ، بِالْجُزْئِ الَّذِیْ کَانَ سَلَّمَہُ عُمَرُ لَبَجِیْلَۃَ ، فَمَلَکُوْھُ ، ثُمَّ أَرَادَ انْتِزَاعَہُ مِنْہُمْ ، بِطِیْبِ أَنْفُسِہِمْ فَلَمْ یَخْرُجْ حَقُّ تِلْکَ الْمَرْأَۃِ مِنْہَا اِلَّا بِمَا طَابَتْ بِہٖ نَفْسُہَا ، فَأَعْطَاہَا عُمَرُ مَا طَلَبَتْ ، حَتّٰی رَضِیَتْ ، فَسَلَّمَتْ مَا کَانَ لَہَا مِنْ ذٰلِکَ ، کَمَا سَلَّمَ سَائِرُ قَوْمِہَا حُقُوْقَہُمْ .فَہٰذَا - عِنْدَنَا - وَجْہُ ہٰذَا الْبَابِ کُلِّہِ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ ، وَمِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، عَلٰی مَا بَیَّنَّا ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَسُفْیَانَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ أَرْضِ مِصْرَ أَیْضًا ،
٥١٢٤: قیس بن ابی حازم نے نقل کیا کہ ایک عورت جس کا تعلق بجیلہ قبیلہ سے تھا وہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی میری قوم تو سواد کے سلسلہ میں راضی ہوگئی مگر میں اس عوض پر راضی نہیں اور راضی بھی نہ ہوں گی یہاں تک کہ تو میری ہتھیلی سونے سے یا میرے اونٹ کو غلہ سے بھر نہ دے یا اسی کے ہم معنی بات تھی جناب عمر (رض) نے اسی طرح کردیا۔ فریق اوّل سے یہی عرض کریں گے کہ ہمارے ہاں اس واقعہ کا تعلق بھی اسی جز سے جس کو عمر (رض) نے بجیلہ کے سپرد کردیا تھا اور وہ مالک بن گئے پھر ان سے لینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی خوش دلی سے عوضانہ دے کر اس کو واپس کرلیا اس عورت کو اس کی خوشدلی سے جو اس نے مانگا وہ اس کو عنایت فرما دیا جیسا کہ اس کی قوم کو ان کے حقوق دے کر راضی کردیا۔ آثار کو پیش نظر اور نظری لحاظ سے اس بات کا یہی حکم ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ سفیان ثوری ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔ سر زمین مصر کے متعلق حضرت عمر (رض) کا ارشاد اس کی تائید کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
جواب : فریق اوّل سے یہی عرض کریں گے کہ ہمارے ہاں اس واقعہ کا تعلق بھی اسی جز سے جس کو عمر (رض) نے بجیلہ کے سپرد کردیا تھا اور وہ مالک بن گئے پھر ان سے لینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی خوش دلی سے عوضانہ دے کر اس کو واپس کرلیا اس عورت کو اس کی خوشدلی سے جو اس نے مانگا وہ اس کو عنایت فرما دیا جیسا کہ اس کی قوم کو ان کے حقوق دے کر راضی کردیا۔
حاصل روایت : آثار کے پیش نظر اور نظری لحاظ سے اس بات کا یہی حکم ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ سفیان ثوری ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
تائیدی قول :
سر زمین مصر کے متعلق حضرت عمر (رض) کا ارشاد اس کی تائید کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔