hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5124

.

الطحاوي

5124
Al Tahawi
۵۱۲۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْأَصْبَہَانِیِّ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُوْ أُسَامَۃَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ جَرِیْرٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ قَدْ أَعْطَیْ بَجِیْلَۃَ رُبْعَ السَّوَادِ ، فَأَخَذْنَاہُ ثَلَاثَ سِنِیْنَ .فَوَفَدَ بَعْدَ ذٰلِکَ جَرِیْرٌ اِلَی عُمَرَ ، وَمَعَہُ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاللّٰہٗ، لَوْلَا أَنِّیْ قَاسِمٌ مَسْئُوْلٌ ، لَتَرَکْتُکُمْ عَلٰی مَا کُنْتُ أَعْطَیْتُکُمْ فَأَرَی أَنْ نَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ فَفَعَلَ ، قَالَ : فَأَجَازَنِیْ عُمَرُ بِثَمَانِیْنَ دِیْنَارًا .قَالُوْا : فَہٰذَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ عُمَرَ قَدْ کَانَ قَسَمَ السَّوَادَ بَیْنَ النَّاسِ ، ثُمَّ أَرْضَاہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ بِمَا أَعْطَاہُمْ ، عَلٰی أَنْ یَعُوْدَ لِلْمُسْلِمِیْنَ .قِیْلَ لَہٗ : مَا یَدُلُّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ظَاہِرُہٗ، عَلٰی مَا ذَکَرْتُمْ ، وَلٰـکِنْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَعَلَ مِنْ ذٰلِکَ مَا فَعَلَ ، فِیْ طَائِفَۃٍ مِنَ السَّوَادِ ، فَجَعَلَہَا لِبُجَیْلَۃَ ، ثُمَّ أَخَذَ ذٰلِکَ مِنْہُمْ لِلْمُسْلِمِیْنَ ، وَعَوَّضَہُمْ مِنْہُمْ ، عِوَضًا مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ .فَکَانَ تِلْکَ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ جَرٰی فِیْہَا ہٰذَا الْفِعْلُ لِلْمُسْلِمِیْنَ ، بِمَا عَوَّضَ عُمَرُ أَہْلَہَا مَا عَوَّضَہُمْ مِنْہَا ، مِنْ ذٰلِکَ ، وَمَا بَقِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنَ السَّوَادِ فَعَلَی الْحُکْمِ الَّذِیْ قَدْ بَیَّنَّا ، فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ ، لَکَانَتْ أَرْضُ السَّوَادِ أَرْضَ عُشْرٍ ، وَلَمْ یَکُنْ أَرْضَ خَرَاجٍ .فَاِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٥١٢٣: قیس نے حضرت جریر (رض) سے نقل کیا کہ حضرت عمر (رض) نے بجیلہ کو سوا کا چوتھائی حصہ دیا پھر ہم نے ان سے تین سال تک لیا۔ پھر اس کے بعد حضرت جریر ‘ عماربن یاسر (رض) سمیت حضرت عمر (رض) کے پاس آئے حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا جس سے سوال ہوگا تو میں تمہیں اس چیز پر چھوڑ دیتا جو تمہیں دی ہے۔ لیکن میرا خیال یہ ہے اسے مسلمانوں کی طرف لوٹا دینا چاہیے چنانچہ انھوں نے اسی طرح کیا حضرت جریر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے آپ نے اسی دینار کی اجازت دی۔ وہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس روایت سے معلوم ہوگیا کہ حضرت عمر (رض) نے سواد کی زمین کو لوگوں پر تقسیم فرمایا پھر ان حضرات کو عطیہ دے کر اسے مسلمانوں کی طرف لوٹانے پر راضی کیا۔ اس حدیث کے ظاہر میں تو اس بات کی دلالت موجود نہیں جو تمہارے استدلال کی تائید کرے اگر بالفرض ہو تو ممکن ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ عمل سواد کے کسی ایک گروہ کے لیے کیا ہو پس اس کو بجیلہ قبیلہ کے لیے مقرر کردیا۔ پھر اس قبیلہ سے لے کر مسلمانوں کے مال سے معاوضہ دے کر مسلمانوں کو دے دی۔ پس یہی وہ گروہ تھا جس میں مسلمانوں کی خاطر یہ معاوضہ والا فعل جاری ہوا۔ کہ قبیلہ بجیلہ والوں کو عوضانہ دیا گیا اور بقیہ سواد میں وہی حکم جاری رہا جو ہم اس میں ذکر کر آئے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو سواد کی زمین عشری ہوتی خراجی نہ ہوتی۔ اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں جس کو قیس بن ابو حازم نے حضرت عمر (رض) سے نقل کیا ہے۔
وہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس روایت سے معلوم ہوگیا کہ حضرت عمر (رض) نے سواد کی زمین کو لوگوں پر تقسیم فرمایا پھر ان حضرات کو عطیہ دے کر اسے مسلمانوں کی طرف لوٹانے پر راضی کیا۔
جواباس حدیث کے ظاہر میں تو اس بات کی دلالت موجود نہیں جو تمہارے استدلال کی تائید کرے اگر بالفرض ہو تو ممکن ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ عمل سواد کے کسی ایک گروہ کے لیے کیا ہو پس اس کو بجیلہ قبیلہ کے لیے مقرر کردیا۔ پھر اس قبیلہ سے لے کر مسلمانوں کے مال سے معاوضہ دے کر مسلمانوں کو دے دی۔ پس یہی وہ گروہ تھا جس میں مسلمانوں کی خاطر یہ معاوضہ والا فعل جاری ہوا۔ کہ قبیلہ بجیلہ والوں کو عوضانہ دیا گیا اور بقیہ سواد میں وہی حکم جاری رہا جو ہم اس میں ذکر کر آئے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو سواد کی زمین عشری ہوتی خراجی نہ ہوتی۔
ایک اور روایت سے استدلال :
اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں جس کو قیس بن ابو حازم نے حضرت عمر (رض) سے نقل کیا ہے۔ روایت یہ ہے۔