hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5129

.

الطحاوي

5129
Al Tahawi
۵۱۲۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ سُلَیْمٍ التُّجِیْبِیِّ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ رُوَیْفِعٍ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُہٗ .فَذَہَبَ قَوْمٌ ، مِنْہُمُ الْأَوْزَاعِیُّ ، اِلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ السِّلَاحَ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ ، فَیُقَاتِلُ بِہٖ فِیْ مَعْمَعَۃِ الْقِتَالِ مَا کَانَ اِلٰی ذٰلِکَ مُحْتَاجًا ، وَلَا یَنْتَظِرُ بِرَدِّہِ الْفَرَاغَ مِنَ الْحَرْبِ ، فَتُعَرِّضَہٗ لِلْہَلَاکِ وَکَسَادُ الثَّمَنِ ، فِیْ طُوْلِ مُکْثِہٖ، فِیْ دَارِ الْحَرْبِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، مِنْہُمْ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ
٥١٢٨: حنش نے رویفع بن ثابت (رض) سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ایک جماعت جس میں اوزاعی بھی شامل ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ مال غنیمت میں ملنے والے ہتھیاروں کے ذریعہ لڑنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس کو ضرورت رہے مگر واپس لوٹانے کے لیے لڑائی کے ختم کا منتظر نہ رہے کیونکہ دارالحرب میں زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے وہ اسلحہ ضائع ہوجائے گا یا اس کی قیمت میں کمی آجائے گی۔ اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ دوسرے حضرات نے ان کی مخالفت کی جن میں امام ابوحنیفہ (رح) بھی ہیں۔ جیسا کہ اس اثر سے واضح ہو رہا ہے۔