۵۱۲۹ : فِیْمَا حَدَّثَنِیْ سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ السِّلَاحَ ، اِذَا احْتَاجَ اِلَیْہِ، بِغَیْرِ اِذْنِ الْاِمَامِ ، فَیُقَاتِلُ بِہٖ ، حَتّٰی یَفْرُغَ مِنَ الْحَرْبِ ، ثُمَّ یَرُدُّہُ فِی الْمَغْنَمِ .قَالَ أَبُوْ یُوْسُفَ : وَقَدْ بَلَغَنَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا احْتَجَّ بِہٖ الْأَوْزَاعِیُّ ، وَلِحَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَانٍ وَوُجُوْہٌ وَتَفْسِیْرٌ لَا یَفْہَمُہٗ وَلَا یُبْصِرُہُ اِلَّا مَنْ أَعَانَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ .فَہٰذَا الْحَدِیْثُ - عِنْدَنَا - عَلَی مَنْ یَفْعَلُ ذٰلِکَ ، وَہُوَ عَنْہُ غَنِیٌّ ، یَبْقَی بِذٰلِکَ عَلَی دَابَّتِہٖ، وَعَلَی ثَوْبِہٖ ، أَوْ یَأْخُذُ ذٰلِکَ یُرِیْدُ بِہٖ الْخِیَانَۃَ .فَأَمَّا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ ، لَیْسَ مَعَہُ دَابَّۃٌ ، وَلَیْسَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ فَضْلٌ یَحْمِلُوْنَہُ اِلَّا دَوَابُّ الْغَنِیْمَۃِ ، وَلَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَمْشِیَ ، فَاِنَّ ہَذَا لَا یَحِلُّ لِلْمُسْلِمِیْنَ تَرْکُہُ وَلَا بَأْسَ أَنْ یَرْکَبَہَا ہٰذَا، شَائُوْا ، أَوْ کَرِہُوْا ، وَکَذٰلِکَ ہٰذِہِ الْحَالُ فِی الثِّیَابِ ، وَکَذٰلِکَ ہٰذِہِ الْحَالُ فِی السِّلَاحِ ، وَالْحَالُ أَبْیَنُ وَأَوْضَحُ .أَلَا تَرَی أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ لَوْ تَکَسَّرَتْ سُیُوْفُہُمْ ، أَوْ ذَہَبَتْ ، وَلَہُمْ غِنًیْ عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ ، أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یَأْخُذُوْا سُیُوْفًا مِنَ الْغَنِیْمَۃِ ، فَیُقَاتِلُوْا بِہَا ، مَا دَامُوْا فِیْ دَارِ الْحَرْبِ .أَرَأَیْتُ ، وَلَوْ لَمْ یَحْتَاجُوْا اِلَیْہَا فِیْ مَعْمَعَۃِ الْقِتَالِ ، وَاحْتَاجُوْا اِلَیْہَا بَعْدَ ذٰلِکَ بِیَوْمَیْنِ أَغَارَ عَلَیْہِمُ الْعَدُوُّ ، أَیَقُوْمُوْنَ ہٰکَذَا فِیْ وُجُوْہِ الْعَدُوِّ بِغَیْرِ سِلَاحٍ ؟ کَیْف یَصْنَعُوْنَ ؟ أَیَسْتَأْسِرُوْنَ ؟ ہَذَا الرَّأْیُ فِیْہِ تَوْہِینٌ لِمَکِیدَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ .وَکَیْفَ یَحِلُّ ہَذَا فِی الْمَعْمَعَۃِ ، وَیُحَرَّمُ بَعْدَ ذٰلِکَ ؟
٥١٢٩: سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے انھوں نے ابو یوسف (رح) سے نقل کیا کہ اس آدمی کو غنیمت کا اسلحہ لینے میں کچھ حرج نہیں جبکہ ضرورت پیش آئے امام سے اجازت کی ضرورت نہیں اس اسلحہ سے قتال کرے جب لڑائی سے فارغ ہو تو غنائم میں لوٹا دے امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ ہمیں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات پہنچی ہے جس سے امام اوزعی نے دلیل پیش کی ہے اور حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ معانی اور وجوہ اور تفسیر ہوتی ہے جن کی سمجھ بوجھ وہی رکھتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ اعانت فرمائے۔ ہمارے ہاں اس روایت میں جو کچھ بتلایا گیا اس کا تعلق مالدار سے ہے جو کہ ضرورت کے بغیر جانور یا کپڑا لیتا ہے یا خیانت کے طور پر لیتا ہے مگر جس مسلمان کے پاس دارالحرب میں کوئی جانور نہ ہو اور دوسرے مسلمانوں کے پاس غنیمت کے علاوہ کوئی زائد جانور نہ ہو اور وہ پیدل بھی نہ چل سکتا ہو تو مسلمانوں کے لیے اسے بغیر سواری چھوڑنا جائز نہیں اور اس پر سواری میں کوئی حرج نہیں۔ خواہ دوسرے مسلمان اس کو پسند کریں یا ناپسند کریں۔ کپڑے کا اور ہتھیاروں کا بھی حال ہے اور یہ حکم تو ظاہر تر ہے کیا تم اس بات پر نظر نہیں ڈالتے کہ اگر مسلمانوں کی تلواریں ٹوٹ جائیں یا ان کے پاس تلواریں نہ رہیں اور مسلمانوں کے پاس سے انھیں کچھ نہ مل سکے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مال غنیمت سے تلواریں لے کر ان کے ساتھ لڑیں جب تک کہ وہ دارالحرب میں ہو۔ ذرا توجہ تو کرو کہ اگر ان کو ان تلواروں کی ضرورت عین گھمسان کی جنگ کے موقعہ پر نہ ہو اور اس کے دو دن بعد ان کو ان کی اس لیے ضرورت ہو کہ دشمن کے شب خون کا خطرہ ہو آپ ہی بتلائیں کہ آیا وہ دشمن کے سامنے یوں بلا اسلحہ کھڑے ہوں گے ؟ وہ کیا کریں گے کیا وہ اس رائے کو ترجیح دیں گے جس میں مسلمانوں کی جنگی چال کی تذلیل ہے (یا کچھ اور کریں گے) پھر یہ عین گھمسان میں کیسے حلال ہوا کہ جو بعد میں حرام ہوگیا ؟