hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5139

.

الطحاوي

5139
Al Tahawi
۵۱۳۸ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیْرَۃُ ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَہٗ۔قِیْلَ لَہٗ : قَدْ یَحْتَمِلُ ذٰلِکَ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ حَدِیْثِ غَیْلَانَ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ لَہُ اخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا أَیْ اخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا ، فَتَزَوَّجْہُنَّ .وَلَا دَلَالَۃَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَلَی وَاحِدٍ مِنْ ہٰذَیْنِ الْمَعْنَیَیْنِ .وَاِنْ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا ،
٥١٣٨: مغیرہ نے حضرت حارث بن قیس (رض) کے کسی بیٹے سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں بھی اس بات کا احتمال ہے جس کو ہم نے حضر غیلان (رض) والی روایت کے ضمن میں بیان کرچکے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی کہ ان میں سے چار کو چن لو۔ کا مطلب یہ ہو کہ ان میں سے چار کو ناپسند کر کے ان سے نکاح کرلو اور اس روایت میں تو ان دونوں میں سے کسی معنی کی دلالت نہیں پائی جاتی۔ (پس اسے اعتراض کے لیے پیش نہیں کیا جاسکتا) اگر وہ ضحاک بن فیروز دیلمی کی روایت سے استدلال کریں جو انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ روایت یہ ہے۔
جواب : نمبر 1: اس روایت میں بھی اس بات کا احتمال ہے جس کو ہم نے حضرت غیلان (رض) والی روایت کے ضمن میں بیان کرچکے۔
نمبر 2: اور یہ بھی احتمال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد گرامی کہ ان میں سے چار کو چن لو۔ کا مطلب یہ ہو کہ ان میں سے چار کو پسند کر کے ان سے نکاح کرلو اور اس روایت میں تو ان دونوں میں سے کسی معنی کی دلالت نہیں پائی جاتی۔ (پس اسے اعتراض کے لیے پیش نہیں کیا جاسکتا)
ایک دوسری روایت سے استدلال :
اگر وہ ضحاک بن فیروز دیلمی کی روایت سے استدلال کریں جو انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ روایت یہ ہے۔