hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5141

.

الطحاوي

5141
Al Tahawi
۵۱۴۰ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوْبَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ ، عَنْ أَبِیْ وَہْبٍ الْجَیَشَانِیِّ ، عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ فَیْرُوْزَ الدَّیْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِی أُخْتَانِ ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُہٗ فَقَالَ طَلِّقْ أَیَّتَہمَا شِئْت .قِیْلَ لَہُمْ : ہَذَا یُوْجِبُ الِاخْتِیَارَ ، کَمَا ذَکَرْتُمْ ، وَہُوَ أَوْضَحُ مِنْ حَدِیْثِ حَارِثِ بْنِ قَیْسٍ .وَلٰـکِنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا خَیَّرَہٗ، لِأَنَّ نِکَاحَہُ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، قَبْلَ تَحْرِیْمِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا فَوْقَ الْأَرْبَعِ .فَیَکُوْنُ مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مِثْلُ مَعْنَیْ حَدِیْثِ غَیْلَانَ بْنِ سَلْمَۃَ .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا بَیَّنَّا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُمَا اللّٰہٗ، وَفَسَدَ مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَقَدْ ذَہَبَ اِلَی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، بَعْضُ الْمُتَقَدِّمِیْنَ .
٥١٤٠: ضحاک بن فیروز دیلمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جب میں اسلام لایا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں میں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ان میں سے جس کو چاہو طلاق دو ۔ تو اسے جواباً عرض ہے کہ یہ روایت تو اختیا رکو واجب کرتی ہے جیسا کہ تم نے کہا اور یہ روایت حضرت حارث بن قیس (رض) کی روایت سے واضح تر ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اختیار اس وجہ سے دیا ہو کہ ان کا نکاح زمانہ جاہلیت کے زمانہ میں ہوا جبکہ چار سے زائد عورتوں سے نکاح حرام نہ تھا۔ پس اس روایت کا مفہوم حضرت غیلان (رض) والی روایت کے مطابق ہوگا۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا اس سے امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف (رح) کا مؤقف ثابت ہوگیا اور امام محمد بن حسن (رح) کا مؤقف فاسد ہوا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے مؤقف کو بعض متقدمین نے بھی اختیار کیا جیسا کہ اس اثر سے واضح ہوتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد باب الطلاق باب ٢٥۔
جواب : جواباً عرض ہے کہ یہ روایت تو اختیا رکو واجب کرتی ہے جیسا کہ تم نے کہا اور یہ روایت حضرت حارث بن قیس (رض) کی روایت سے واضح تر ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اختیار اس وجہ سے دیا ہو کہ ان کا نکاح زمانہ جاہلیت کے زمانہ میں ہوا جبکہ چار سے زائد عورتوں سے نکاح حرام نہ تھا۔ پس اس روایت کا مفہوم حضرت غیلان (رض) والی روایت کے مطابق ہوگا۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا اس سے امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف (رح) کا مؤقف ثابت ہوگیا اور امام محمد بن حسن (رح) کا مؤقف فاسد ہوا۔
تابعین سے مؤقف کی تائید :
امام ابوحنیفہ (رح) کے مؤقف کو بعض متقدمین نے بھی اختیار کیا جیسا کہ اس اثر سے واضح ہوتا ہے۔