۵۱۴۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : رَدَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی عِکْرَمَۃَ بْنِ أَبِیْ جَہْلٍ ، أُمَّ حَکِیْمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ بَعْدَ أَشْہُرٍ ، أَوْ قَرِیْبٍ مِنْ سَنَۃٍ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرَ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا أَسْلَمَتْ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ ، وَجَائَ تْنَا مُسْلِمَۃً ، ثُمَّ جَائَ زَوْجُہَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَأَدْرَکَہَا وَہِیَ فِی الْعِدَّۃِ ، فَہِیَ امْرَأَتُہُ عَلٰی حَالِہَا ، وَاِنْ لَمْ یُدْرِکْہَا حَتّٰی تَخْرُجَ مِنَ الْعِدَّۃِ ، فَلَا سَبِیْلَ لَہٗ عَلَیْہَا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا سَبِیْلَ لَہٗ عَلَیْہَا فِی الْوَجْہَیْنِ جَمِیْعًا ، وَخُرُوْجُہَا عِنْدَہُمْ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ ، بِقَطْعِ الْعِصْمَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا ، وَیُبِیْنُہَا مِنْہُ .فِیْ ذٰلِکَ ،
٥١٤٣: زہری نے ابوبکر بن عبدالرحمن (رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل (کے اسلام لانے پر) ام حکیم بنت الحارث بن ہشام (رض) کو کئی ماہ بعد یا سال کے قریب عرصہ کے بعد ان کی زوجیت میں واپس کردیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ جب کوئی عورت دارالحرب سے مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے اس کے بعد اس کا خاوند اگر حالت عدت میں آجائے تو وہ بدستور اس کی بیوی ہوگی اور اگر اس کی عدت ختم ہوگئی اور وہ بعد میں آیا تو اب اس کا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا خاوند اگر بعد میں آئے خواہ عورت ایام عدت میں ہو یا نہ ہو بہرصورت وہ اس کی زوجیت میں نہ رہے گی۔ کیونکہ عورت کے مسلمان ہو کر دارالحرب سے نکل جانے سے ہی وہ عصمت ختم ہوجائے گی جو اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان تھی اور وہ عورت اس سے جدا ہوجائے گی انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔
تخریج : مالک فی النکاح ٤٦‘ بنحوہ۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ جب کوئی عورت دارالحرب سے مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے اس کے بعد اس کا خاوند اگر حالت عدت میں آجائے تو وہ بدستور اس کی بیوی ہوگی اور اگر اس کی عدت ختم ہوگئی اور وہ بعد میں آیا تو اب اس کا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : خاوند اگر بعد میں آئے خواہ عورت ایام عدت میں ہو یا نہ ہو بہرصورت وہ اس کی زوجیت میں نہ رہے گی۔ کیونکہ عورت کے مسلمان ہو کر دارالحرب سے نکل جانے سے ہی وہ عصمت ختم ہوجائے گی جو اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان تھی اور وہ عورت اس سے جدا ہوجائے گی انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔