۵۱۴۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیٰی ، قَالَ : ثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوٗدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، مِثْلُہٗ .قَالُوْا : فَفِیْ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ہٰذَا، خِلَافُ مَا فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .وَقَدْ وَافَقَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلٰی ذٰلِکَ ، عَامِرَ الشَّعْبِیَّ ، مَعَ عِلْمِہٖ بِمَغَازِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالُوْا : فَہٰذَا أَوْلَی مِمَّا قَدْ خَالَفَہٗ، لِمَعَانٍ سَنُبَیِّنُہَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، عَلٰی مَنْ ذَہَبَ اِلَی الْقَوْلِ الْأَوَّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اِنَّمَا فِیْ حَدِیْثِہٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَدَّہَا ، عَلٰی أَبِی الْعَاصِ ، عَلَی النِّکَاحِ الْأَوَّلِ .فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ رَدَّہَا اِلَیْہِ، لِأَنَّہَا فِی الْعِدَّۃِ ، وَلَا کَیْفَ کَانَ الْحُکْمُ یَوْمَئِذٍ فِی الْمُشْرِکَۃِ تُسْلِمُ وَزَوْجُہَا مُشْرِکٌ ، أَیُبِیْنُہَا ذٰلِکَ مِنْہُ، أَوْ تَکُوْنُ زَوْجَۃً لَہٗ عَلٰی حَالِہَا ؟ .وَاِنَّمَا یَکُوْنُ حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حُجَّۃً لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، لَوْ کَانَ فِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَدَّہَا عَلٰی أَبِی الْعَاصِ لِأَنَّہٗ أَدْرَکَہَا وَہِیَ فِی الْعِدَّۃِ .فَأَمَّا اِذَا لَمْ یَتَبَیَّنْ لَنَا الْعِلَّۃُ ، الَّتِیْ لَہَا رَدَّہَا عَلَیْہِ، فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہِیَ الْعِدَّۃَ ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ ، لِأَنَّ الْاِسْلَامَ لَمْ یَکُنْ حِیْنَئِذٍ یُبِیْنُہَا مِنْہُ، وَلَا یُزِیلُہَا عَنْ حُکْمِہَا الْمُتَقَدِّمِ .
٥١٤٥: داؤد نے شعبی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کی روایت ‘ روایت ابن عباس (رض) کے خلاف ہے اور شعبی نے مغازی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق واقفیت کے باجود عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت کی موافقت کی ہے اور یہ روایت شروع باب والی روایت ابن عباس (رض) سے چند وجوہ کی بنا پر اولیٰ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت زینب (رض) کو ابوالعاص (رض) کی لوٹانے کا تذکرہ تو ضرور ہے مگر اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عدت کے باقی رہنے کی وجہ سے لوٹایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو مشرکہ اسلام لائے اور اس کا خاوند مشرک ہو تو کیا وہ عورت اس خاوند سے جدا ہوجائے گی یا اسی طرح اس کی بیوی رہے گی ؟ روایت ابن عباس (رض) فریق اوّل کی دلیل تب بنتی جب روایت میں یہ موجود ہوتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب (رض) کو ابوالعاص (رض) پر اس لیے واپس کردیا کہ وہ عدت میں تھیں۔ پس جبکہ ہمارے سامنے وہ علت بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب (رض) کو واپس کیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ عدت میں ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ ابھی اسلام میں اس کے متعلق حکم نہ آیا اور وہ ان سے جدا نہ ہوئی ہوں اور سابقہ حکم بھی ان کو اس سے زائل کرنے والا نہ تھا۔
فریق ثانی کی طرف سے جواب نمبر 1: عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کی روایت ‘ روایت ابن عباس (رض) کے خلاف ہے اور شعبی نے مغازی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق واقفیت کے باجود عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت کی موافقت کی ہے اور یہ روایت شروع باب والی روایت ابن عباس (رض) سے چند وجوہ کی بنا پر اولیٰ ہے۔
فریق ثانی کی دلیل : حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت زینب (رض) کو ابوالعاص (رض) کی طرف لوٹانے کا تذکرہ تو ضرور ہے مگر اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عدت کے باقی رہنے کی وجہ سے لوٹایا اور نہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو مشرکہ اسلام لائے اور اس کا خاوند مشرک ہو تو کیا وہ عورت اس خاوند سے جدا ہوجائے گی یا اسی طرح اس کی بیوی رہے گی ؟ روایت ابن عباس (رض) فریق اوّل کی دلیل تب بنتی جب روایت میں یہ موجود ہوتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب (رض) کو ابوالعاص (رض) پر اس لیے واپس کردیا کہ وہ عدت میں تھیں۔ پس جبکہ ہمارے سامنے وہ علت بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب (رض) کو واپس کیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ عدت میں ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ ابھی اسلام میں اس کے متعلق حکم نہ آیا اور وہ ان سے جدا نہ ہوئی ہوں اور سابقہ حکم بھی ان کو اس سے زائل کرنے والا نہ تھا۔