hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5151

.

الطحاوي

5151
Al Tahawi
۵۱۵۰ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا ہِلَالُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ یُوْسُفَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ ، عَنِ السِّفَاحِ ، عَنْ کُرْدُوْسَ بْن دَاوٗدَ التَّغْلِبِیِّ ، عَنْ عُمَرَ ، نَحْوُہٗ .فَقَلَّدُوْا مَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الَّذِیْ أَسْلَمَتِ امْرَأَتُہُ فِیْ دَارِ الْاِسْلَامِ ، وَجَعَلُوْا لِلَّذِیْ أَسْلَمَتِ امْرَأَتُہُ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ أَجَلًا ، اِنْ أَسْلَمَ فِیْہِ، وَاِلَّا وَقَعَتِ الْفُرْقَۃُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ امْرَأَتِہٖ، بَدَلًا مِنَ الْعَرْضِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْرِضُوْنَہٗ عَلَیْہِ، لَوْ کَانَ فِیْ دَارِ الْاِسْلَامِ ، وَہُوَ الْعِدَّۃُ ، اِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الْمَرْأَۃُ قَبْلَ ذٰلِکَ اِلٰی دَارِ الْاِسْلَامِ ، فَیَنْقَطِعُ الْأَجَلُ بِذٰلِکَ ، وَتَجِبُ بِہٖ الْبَیْنُوْنَۃُ .وَنَحْنُ فِیْ ہٰذَا عَلٰی مَا رَوَیْنَا ، عَنِ ابْن عَبَّاس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، مِنْ وُجُوْب الْبَیْنُوْنَۃ بِالْاِسْلَامِ ، سَاعَۃَ یَکُوْنُ مِنَ الْمَرْأَۃِ .وَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ،
٥١٥٠: کردوس بن داؤد تغلبی نے حضرت عمر (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ائمہ احناف (رح) نے دارالاسلام میں اسلام لانے والی عورت کے کافر خاوند کے سلسلہ میں حضرت عمر (رض) کے اس قول کی تقلید کی ہے جو مذکورہ روایت میں حضرت عمر (رض) نے اختیار فرمایا اور دارالحرب میں مسلمان ہونے والی عورت کے لیے خاوند کو اسلام لانے کے لیے ایک موقعہ دیا ہے۔ اگر وہ اسلام قبول کرے تو مناسب ہے ورنہ اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی۔ یہ اس اسلام کا بدل ہے جو دارالاسلام میں ہونے کی صورت میں اس پر پیش کیا جاتا اور وہ عدت کا وقت گزرنا یا دارالاسلام کی طرف اس کا نکال دیا جانا ہے جس سے وہ مہلت ختم ہو کر جدائی لازم ہوجائے گی۔ ہم اس سلسلہ میں ابن عباس (رض) کی روایت کو اختیار کرتے ہیں کہ اسلام لاتے ہی عورت جدا ہوجائے گی۔