۵۱۶۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ زَائِدَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : اِذَا أَصَابَ الْمُشْرِکُوْنَ السَّبْیَ لِلْمُسْلِمِیْنَ ، فَأَصَابَہُ الْمُسْلِمُوْنَ ، فَقَدْ رَدَّ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ ، فَہُوَ لَہٗ، وَاِنْ قَدَرَ عَلَیْہِ بَعْدَ الْقِسْمَۃِ ، فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖ ، بِالثَّمَنِ الَّذِی أَخَذَ بِہٖ .
٥١٦٧: لیث نے مجاہد (رح) سے نقل کیا کہ جب مشرکین مسلمانوں کے قیدی قبضہ میں کرلیں پھر مسلمانوں نے (حملہ کر کے ان کو) پا لیا تقسیم سے پہلے تو مالک پر لوٹا دی جائے گی اور وہ اسی کی ملکیت ہوگی اور اگر تقسیم کے بعد قدرت ملی تو جس قیمت پر اس کو خرید کیا گیا وہ قیمت ادا کردینے سے اس کا زیادہ حق دار ہے۔