۵۱۷۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْمُرْتَدَّ اِذَا قُتِلَ عَلٰی رِدَّتِہٖ، أَوْ مَاتَ عَلَیْہَا ، کَانَ مَالُہُ لِبَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مِیْرَاثُہُ لِوَرَثَتِہِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّ ذٰلِکَ الْکَافِرَ الَّذِیْ عَنَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، لَمْ یُبَیِّنْ لَنَا فِیْہِ أَیَّ کَافِرٍ ہُوَ ؟ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہُوَ الْکَافِرُ الَّذِی لَہُ مِلَّۃٌ ، وَیَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ہُوَ الْکَافِرُ ، کُلُّ کُفْرٍ ، کَانَ مَا کَانَ ، مِلَّۃً أَوْ غَیْرَ مِلَّۃٍ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ذٰلِکَ لَمْ یَجُزْ أَنْ یُصْرَفَ اِلٰی أَحَدِ الْمَعْنَیَیْنِ دُوْنَ الْآخَرِ اِلَّا بِدَلِیْلٍ یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ .فَنَظَرْنَا ، ہَلْ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الْآثَارِ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا أَرَادَ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ ؟
٥١٧٦: عمرو بن عثمان نے اسامہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ مسلمان کافر کا وارث نہ ہوگا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کہ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جب مرتد ہونے والا اپنے ارتداد پر قتل ہوجائے یا مرجائے تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ دوسروں نے کہا مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گی۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ اس ارشاد میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعلقہ کافر کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سے کون سا کافر مراد ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے وہ کافر مراد ہو جس کا کسی ملت سے تعلق ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مطلق کافر مراد ہو۔ خواہ اس کا کسی ملت سے تعلق ہو یا نہ ہو۔ تو جب اس بات کا احتمال ہے تو کسی دلیل کے بغیر کسی ایک جانب کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ اب دونوں معانی میں سے ایک کی تعیین نہیں کی جاسکتی جو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد پر دلالت کرتی ہے۔