۵۱۷۷ : فَاِذَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی‘ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَوَارَثُ أَہْلُ مِلَّتَیْنِ ، لَا یَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ ، وَلَا یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ .فَلَمَّا جَائَ ہَذَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا ذَکَرْنَا ، عَلِمْنَا أَنَّہٗ أَرَادَ الْکَافِرَ، ذَا الْمِلَّۃِ .فَلَمَّا رَأَیْنَا الرِّدَّۃَ لَیْسَتْ بِمِلَّۃٍ ، وَرَأَیْنَاہُمْ مُجْمِعِیْنَ أَنَّ الْمُرْتَدِّیْنَ لَا یَرِثُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، لِأَنَّ الرِّدَّۃَ لَیْسَتْ بِمِلَّۃٍ ، ثَبَتَ أَنَّ حُکْمَ مِیْرَاثِہِمْ ، حُکْمُ مِیْرَاثِ الْمُسْلِمِیْنَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَأَنْتَ لَا تُوَرِّثُہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَکَذٰلِکَ لَا تُوَرِّثُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْہُمْ .قِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ لَک عَلٰی مَا ذَکَرْتُ ، لِأَنَّا قَدْ رَأَیْنَا مَنْ یَمْنَعُ الْمِیْرَاثَ بِفِعْلٍ کَانَ مِنْہٗ، وَلَا یَمْنَعُ ذٰلِکَ الْفِعْلَ أَنْ یُوْرَثَ .مِنْ ذٰلِکَ أَنَّا رَأَیْنَا الْقَاتِلَ لَا یَرِثُ مَنْ قَتَلَ ، وَرَأَیْنَا لَوْ جَرَحَ رَجُلًا جِرَاحَۃً ، ثُمَّ مَاتَ الْمَجْرُوْحُ مِنَ الْجِرَاحَۃِ ، وَالْجَارِحُ أَبُو الْمَجْرُوْحِ ، أَنَّہٗ یَرِثُہُ .فَقَدْ صَارَ الْمَقْتُوْلُ یَرِثُ مِمَّنْ قَتَلَہٗ، وَلَا یَرِثُ الْقَاتِلُ مِمَّنْ قَتَلَ ، لِأَنَّ الْقَاتِلَ عُوْقِبَ بِقَتْلِہٖ ، فَمُنِعَ الْمِیْرَاثُ مِمَّنْ قَتَلَہٗ، وَلَمْ یُمْنَعْ الْمَقْتُوْلُ مِنَ الْمِیْرَاثِ مِمَّنْ جَرَحَہُ الْجِرَاحَۃَ الَّتِی قَتَلَتْہٗ، اِذْ کَانَ لَمْ یَفْعَلْ شَیْئًا .فَکَذٰلِکَ الْمُرْتَدُّ ، مُنِعَ مِنْ مِیْرَاثِ غَیْرِہٖ، عُقُوْبَۃً لِمَا أَتَاہُ وَلَمْ یُمْنَعْ غَیْرُہُ مِنَ الْمِیْرَاثِ مِنْہٗ، اِذْ لَمْ یَکُنْ مِنْہُ مَا یُعَاقَبُ عَلَیْہِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ ، قَوْلُ مَنْ یُوَرِّثُ مِنَ الْمُرْتَدِّ وَرَثَتَہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ أَیْضًا .
٥١٧٧: عمرو بن عثمان نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمان کافر کا وارث نہ ہوگا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کافر سے اہل ادیان مراد ہیں اور مرتد ہونا تو کوئی دین نہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ مرتد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے کیونکہ خود ارتداد کوئی دین نہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کی وراثت کا حکم مسلمانوں کی وراثت جیسا ہے۔ تمہارے ہاں جب مسلمان کے وہ وارث نہیں تو مسلمان ان کے کس طرح وارث ہوئے۔ تمہاری بات کی کوئی دلیل اس روایت میں نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے کسی عمل کی وجہ میراث سے محروم ہوجائے تو وہ فعل اس کے وارث بننے میں رکاٹ نہ بنے گی اسی سلسلہ کی یہ بات ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں بنتا اور ہم نے دیکھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو زخمی کرتا ہے پھر زخمی کرنے والا خود طبعی موت مرگیا کچھ وقت بعد اسی زخم کی وجہ سے یہ زخمی شخص مرگیا اور زخمی کرنے والا اس زخمی شخص کا والد ہے تو اب یہ زخمی شخص اپنے زخم لگانے والے والد کا وارث بن جائے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مقتول اپنے قاتل کا وارث بن جاتا ہے۔ مگر قاتل مقتول کا وارث نہیں بنتا اس کی وجہ یہ ہے کہ قاتل کو اس کے فعل قتل کی سزا دی گئی۔ اس وجہ سے وہ مقتول کی وراثت سے محروم ہوگیا لیکن اس کے بالمقابل مقتول اس شخص کی وراثت سے محروم نہیں ہوتا کہ جس نے اسے جانبر نہ ہونے والا زخم لگایا۔ جس سے وہ مرگیا کیونکہ اس نے ایسا کوئی فعل نہیں کیا (جس سے اسے محروم کیا جائے) اسی طرح مرتد کو اس کے عمل کی سزا دیتے ہوئے دوسروں کی وراثت سے تو محروم رکھا جائے گا لیکن دوسروں کو اس کی وراثت سے محروم نہ رکھا جائے گا کیونکہ دوسروں نے تو کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس کی سزا میں ان کو وراثت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے فریق ثانی کا قول ثابت ہوگیا کہ وہ مرتد کے مسلمان ورثاء کو اس کی وراثت دینے کے قائل ہیں۔
تخریج : دارمی فی الفرائض باب ٢٩۔
حاصل روایات اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کافر سے اہل ادیان مراد ہیں اور مرتد ہونا تو کوئی دین نہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ مرتد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے کیونکہ خود ارتداد کوئی دین نہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کی وراثت کا حکم مسلمانوں کی وراثت جیسا ہے۔