hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 520

.

الطحاوي

520
Al Tahawi
۵۲۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ یُوْنُسَ، وَقَتَادَۃَ، عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ .فَھٰذِہٖ أَقْوَالُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَدِ اتَّفَقَتْ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنَ التَّوْقِیْتِ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ لِلْمُسَافِرِ وَالْمُقِیْمِ .فَلَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یُخَالِفَ ذٰلِکَ .وَھٰذَا الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ أَیْضًا، قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٥٢٠: قتادہ نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عباس (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال ہیں یہ تمام اقوال موزے پر مسح کے مقیم و مسافر کے متعلق وقت کے مقرر ہونے پر متفق ہیں۔ پس ان کی مخالفت کسی کو درست نہیں۔ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات :
ان مزید تائیدی روایات سے بھی موزوں پر مسح کی مدت کا مقرر ہونا معلوم ہوتا ہے یہ تمام مدت مسح کی توقیت پر متفق ہیں پس ان سے تخلف جائز نہیں۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے۔
لطیفہ : مسح علی الخفین کا مسئلہ ٦٧ صحابہ (رض) سے مروی ہے۔ (کذا فی نخب الافکار ج ١)