hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 521

.

الطحاوي

521
Al Tahawi
۵۲۱ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حُصَیْنٍ أَبِیْ سَاسَانَ، عَنْ (الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، أَنَّہٗ سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوْئِہٖ قَالَ : إِنَّہٗ لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ) .
٥٢١: حصین ابی ساسان نے مہاجر بن قُنفذ (رض) سے نقل کیا وہ کہتے ہیں میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جبکہ آپ وضو کر رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی مگر میں نے بلاطہارت اللہ تعالیٰ کا ذکر مناسب نہ سمجھا۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٨‘ نمبر ١٧‘ نسائی فی الطھارۃ باب ٣٣‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٢٧‘ نمبر ٣٥٠‘
خلاصہ الزام : فریق اوّل : امام حسن بصری ‘ مجاہد عکرمہ (رح) کے ہاں حدث اصغر ہو یا اکبر کسی حالت میں اذکار ‘ سلام ‘ تلاوت قرآن وغیرہ کچھ بھی جائز نہیں اس کے لیے وضو ضروری ہے۔
فریق ثانی : محدثین (رح) کے ہاں سلام کے علاوہ بقیہ اذکار و تلاوت کے لیے وضو لازم ہے سلام کا جواب تیمم سے بھی درست ہے۔
فریق ثالث : تمام اذکار و تلاوت بلا وضو جائز ہے مگر حائضہ اور جنبی کے لیے مکمل آیت کی تلاوت جائز نہیں ضرورت کے لیے الگ الگ حرف پڑھے جاسکتے ہیں۔
یہ ائمہ اربعہ اور جمہور علماء (رح) کا مسلک ہے۔
فریق اوّل کا مسلک احادیث کی روشنی میں :