۵۲۰۱ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا اخْتَصَّنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ دُوْنَ النَّاسِ ، اِلَّا بِثَلَاثٍ : اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ ، وَأَنْ لَا نَأْکُلَ الصَّدَقَۃَ ، وَأَنْ لَا نُنْزِی الْحُمُرَ عَلَی الْخَیْلِ .فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا، فَکَرِہُوْا اِنْزَائَ الْحُمُرِ عَلَی الْخَیْلِ ، وَحَرَّمُوْا ذٰلِکَ وَمَنَعُوْا مِنْہٗ، وَاحْتَجُّوْا بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِذٰلِکَ بَأْسًا ، وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ذٰلِکَ لَوْ کَانَ مَکْرُوْہًا ، لَکَانَ رُکُوْبُ الْبِغَالِ مَکْرُوْہًا ، لِأَنَّہٗ لَوْلَا رَغْبَۃُ النَّاسِ فِی الْبِغَالِ وَرُکُوْبِہِمْ اِیَّاہَا ، لَمَا أُنْزِیَتِ الْحُمُرُ عَلَی الْخَیْلِ .أَلَا تَرَی أَنَّہٗ لَمَّا نَہٰی عَنْ اِخْصَائِ بَنِی آدَمَ ، کَرِہَ بِذٰلِکَ اتِّخَاذَ الْخُصْیَانِ ، لِأَنَّ فِی اتِّخَاذِہِمْ ، مَا یُحْمَلُ مِنْ تَحْضِیضِہِمْ عَلَی اِخْصَائِہِمْ ، لِأَنَّ النَّاسَ اِذَا تَحَامَوْا اتِّخَاذَہُمْ ، لَمْ یَرْغَبْ أَہْلُ الْفِسْقِ فِیْ اِخْصَائِہِمْ .
٥٢٠١: عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں لوگوں کو چھوڑ کر کسی بات میں خاص نہیں کیا سوائے ان تین چیزوں کے۔ مکمل وضو کرنا ‘ صدقہ نہ کھانا ‘ گھوڑی اور گدھے کا ملاپ نہ کرائیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ گدھے کی گھوڑی سے جفتی مکروہ و حرام اور ممنوع ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا آثار ہیں۔ علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ مکروہ ہوتا تو خچر پر سواری بھی مکروہ ہوتی اگر لوگوں کی اس پر سواری میں رغبت نہ ہو تو لوگ یہ جفتی نہ کرائیں۔ اس کی نظریہ ہے کہ غلاموں کو خصی کرنا ممنوع ہے تو خصی غلاموں کی خریدو فروخت بھی منع ہے۔ کیونکہ ان کی خریداری خصی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جب لوگ اس سے گریز کریں گے۔ تو اہل فسق غلاموں کو خصی کرنے کی طرف رغبت نہیں کریں گے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٢٧‘ ترمذی فی الجہاد باب ٢٣‘ نسائی فی الطہارۃ باب ١٠٥‘ الخیل باب ١٠‘ مسند احمد ١؍٧٨‘ ٢٢٥؍٢٣٤‘ ٢٤٩۔