۵۲۰۲ : وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْقَوَارِیْرِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَفِیْفُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ : ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ عِیْسَی الذَّہَبِیُّ قَالَ : أَتٰی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بِخَصِی فَکَرِہَ أَنْ یَبْتَاعَہُ وَقَالَ : مَا کُنْتُ لِأُعِیْنَ عَلَی الْاِخْصَائِ .فَکُلُّ شَیْئٍ فِیْ تَرْکِ کَسْبِہٖ تَرْکٌ لِبَعْضِ أَہْلِ الْمَعَاصِی لِمَعْصِیَتِہِمْ فَلَا یَنْبَغِیْ کَسْبُہُ .فَلَمَّا أُجْمِعَ عَلَی اِبَاحَۃِ اتِّخَاذِ الْبِغَالِ وَرُکُوْبِہَا ، دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ النَّہْیَ الَّذِیْ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ ، لَمْ یُرَدْ بِہٖ التَّحْرِیْمُ ، وَلٰـکِنَّہٗ أُرِیْدَ بِہٖ مَعْنًی آخَرُ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ رُکُوْبِ الْبِغَالِ ،
٥٢٠٢: علاء بن عیسیٰ ذہبی کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس خصی غلام لایا گیا انھوں نے اس کی خریدارای کو ناپسند کیا اور فرمایا یہ خصی پن کی اعانت کرنے والا نہیں۔ اصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی کمائی چھوڑ دینے سے اہل معاصی کے گناہ چھوڑنے میں مدد ملتی ہو اس کا چھوڑنا ضروری ہے۔ خچر کو خریدنا اور ان کو سواری کے لیے استعمال کرنا جب سب کے ہاں درست ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اثر اوّل میں ممانعت سے تحریمی مراد نہیں۔ بلکہ اس سے دوسرا مفہوم مراد ہے۔
نوٹ : اصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی کمائی چھوڑ دینے سے اہل معاصی کے گناہ چھوڑنے میں مدد ملتی ہو اس کا چھوڑنا ضروری ہے۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : خچر کو خریدنا اور ان کو سواری کے لیے استعمال کرنا جب سب کے ہاں درست ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اثر اوّل میں ممانعت سے تحریمی مراد نہیں۔ بلکہ اس سے دوسرا مفہوم مراد ہے۔