۵۲۱۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ خَرَجَ یَوْمَ النَّحْرِ عَلَی بَغْلَۃٍ بَیْضَائَ ، یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَأَخَذَ بِخِطَامِ بَغْلَتِہٖ، فَسَأَلَہٗ عَنْ یَوْمِ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ ، فَقَالَ ہُوَ یَوْمُک ہٰذَا، خَلِّ سَبِیْلَہَا .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَمَا مَعْنَی قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ؟ قِیْلَ لَہٗ : قَدْ قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِیْ ذٰلِکَ مَعْنَاہُ اِنَّ الْخَیْلَ قَدْ جَائَ فِی ارْتِبَاطِہَا ، وَاکْتِسَابِہَا ، وَعَلَفِہَا الْأَجْرُ ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ فِی الْبِغَالِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا یُنْزَی فَرَسٌ عَلَی فَرَسٍ ، حَتّٰی یَکُوْنَ عَنْہُمَا مَا فِیْہِ الْأَجْرُ ، وَیَحْمِلُ حِمَارًا عَلَی فَرَسٍ فَیَکُوْنُ عَنْہُمَا بَغْلٌ لَا أَجْرَ فِیْہِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ أَیْ لِأَنَّہُمْ یَتْرُکُوْنَ بِذٰلِکَ اِنْتَاجَ مَا فِی ارْتِبَاطِہِ الْأَجْرُ ، وَیُنْتِجُوْنَ مَا لَا أَجْرَ فِی ارْتِبَاطِہِ .فَمِمَّا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الثَّوَابِ فِی ارْتِبَاطِ الْخَیْلِ ،
٥٢١٦: یحییٰ بن جزار نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ یوم نحر کو اپنے سفید خچر پر سوار ہو کر نکلے۔ آپ نماز کے لیے جا رہے تھے تو ایک آدمی نے خچر کی لگام تھام لی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ حج اکبر کا دن کون سا ہے تو آپ نے فرمایا وہ تمہارا یہی دن ہے۔ اس نے آپ کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس بات کا کیا مطلب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” انما یفعل ذلک الذین لا یعلمون “ اہل علم سے اسی قسم کا معنی منقول ہے ” ان الخیل قد جاء فی ارتباطھا و اکتسابہا “ کہ گھوڑے کو باندھنے ‘ حاصل کرنے ‘ چارہ ڈالنے میں اجر ہے اور خچر میں یہ اجر منقول نہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھوڑے کا ملاپ اسی جنس سے ہوتا کہ اس سے پیدا شدہ بچے میں اجر ہو اور اگر گدھے کو گھوڑی پر جفتی کرائیں گے تو اس سے خچر پیدا ہوگا جس میں کوئی اجر نہیں۔ ان لوگوں کو بےعلم کہا کیونکہ اس جفتی سے اس جانور کو حاصل کیا جس کے پالنے میں اجر نہیں اور اس کو چھوڑا جس میں اجر ہے۔
سوال : اس بات کا کیا مطلب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” انما یفعل ذلک الذین لا یعلمون “
جواب : اہل علم سے اسی قسم کا معنی منقول ہے ” ان الخیل قد جاء فی ارتباطھا و اکتسابہا “ کہ گھوڑے کو باندھنے ‘ حاصل کرنے ‘ چارہ ڈالنے میں اجر ہے اور خچر میں یہ اجر منقول نہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھوڑے کا ملاپ اسی جنس سے ہوتا کہ اس سے پیدا شدہ بچے میں اجر ہو اور اگر گدھے کو گھوڑی پر جفتی کرائیں گے تو اس سے خچر پیدا ہوگا جس میں کوئی اجر نہیں۔ ان لوگوں کو بےعلم کہا کیونکہ اس جفتی سے ایسا جانور حاصل کیا جس کے پالنے میں اجر نہیں اور اس کو چھوڑا جس میں اجر ہے۔