۵۲۱۷ : مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ ہِشَامُ بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَیْلِ ، فَقَالَ ہِیَ لِثَلَاثَۃٍ : لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا مَنْ رَبَطَہَا عُدَّۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہٗ لَوْ طَوَّلَ لَہَا فِیْ مَرْجٍ خَصِیْبٍ ، أَوْ رَوْضَۃٍ خَصِیْبَۃٍ ، کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عَدَدَ مَا أَکَلَتْ حَسَنَاتٍ ، وَعَدَدَ أَرْوَاثِہَا حَسَنَاتٍ ، وَلَوْ انْقَطَعَ طُوْلُہَا ذٰلِکَ فَاعْتَلَتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ ، کَتَبَ اللّٰہُ عَدَدَ آثَارِہَا حَسَنَاتٍ ، وَلَوْ مَرَّتْ بِنَہْرٍ عَجَاجٍ لَا یُرِیْدُ السَّقْیَ بِہٖ ، فَشَرِبَتْ مِنْہٗ، کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ ارْتَبَطَہَا تَغَنِّیًا وَتَعَفُّفًا ، ثُمَّ لَمْ یَنْسَ حَقَّ اللّٰہِ فِیْ رِقَابِہَا وَظُہُوْرِہَا ، کَانَتْ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ ارْتَبَطَہَا فَخْرًا وَرِیَائً وَنَوَاہُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ ، کَانَتْ لَہُ بُوْرًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ .قَالُوْا : فَالْخَمْرُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہٖ؟ قَالَ : لَمْ یَنْزِلْ عَلَیَّ فِی الْخَمْرِ شَیْء ٌ اِلَّا ہٰذِہِ الْآیَۃُ الْفَاذَّۃُ فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ .
٥٢١٧: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھوڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں کے لئے۔ باعث اجر ‘ باعث ستر ‘ باعث بوجھ ہے۔ پہلا شخص جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی تیاری کے لیے گھر میں گھوڑا باندھے اور اس کو عرصہ تک سرسبز و شاداب چراگاہ یا سرسبز باغ میں رکھتا ہے تو جس قدر وہ کھاتا ہے اور جس قدر وہ لید کرتا ہے۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نیکیاں لکھتا ہے اور اگر وہ زیادہ دیر نہ چرلے بلکہ ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھے تو اس کے قدموں کے نشانات کے مطابق اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اگر وہ ٹھاٹھیں مارتے دریا سے گزرے اور پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو لیکن اس نے پی لیا تو جس قدر اس نے پانی پیا اللہ تعالیٰ اس کے مطابق اسی شخص کے لیے نیکیاں لکھ دیتا ہے۔
نمبر 2: اور جو شخص گھوڑے کو مالداری کے حصول اور دوسروں کے آگے دست سوال سے بچنے کے لیے کرتا ہے پھر اس کی گردن اور پشت میں اللہ تعالیٰ کا حق نہیں بھلاتا وہ گھوڑا اس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ اور رکاوٹ کا باعث ہے۔
نمبر 3: گھوڑے کو تکبر کے لیے باندھنے والا اور مسلمانوں سے دشمنی کی خاطر باندھنے والا ہو۔ تو وہ گھوڑا قیامت کے دن اس کے لیے بوجھ ہوگا۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گدھوں کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ گدھوں کے متعلق مجھ پر ایک آیت کے سواء کچھ بھی نازل نہیں ہوا جو شخص ایک ذرہ کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو آدمی ایک ذرہ کے برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے پالے گا۔
تخریج : بخاری فی الجہاد باب ٤٨‘ والاعتصام باب ٢٤‘ مسلم فی الزکوۃ ٢٤؍٢٦‘ ترمذی فی فضائل الجہاد باب ١٠‘ نسائی فی الخیل باب ١‘ ابن ماجہ فی الجہاد باب ١٤‘ مالک فی الجہاد ٣‘ مسند احمد ٢؍٢٦٢۔