۵۲۳۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْأَفْطَسُ ، قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیُّ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نَفِیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَلَمَۃُ بْنُ نُفَیْلٍ السَّکُوْنِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِیْ نَوَاصِیْہَا الْخَیْرُ اِلَیْ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، وَأَہْلُہَا مُعَانُوْنَ عَلَیْہَا .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَمَا مَعْنَی اخْتِصَاصِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَنِیْ ہَاشِمٍ بِالنَّہْیِ عَنْ اِنْزَائِ الْحَمِیْرِ عَلَی الْخَیْلِ ؟ قِیْلَ لَہٗ :
٥٢٣٢: جبیر بن نفیر نے بیان کیا کہ مجھے سلمہ بن قیس سکونی (رض) نے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر قیامت تک کے لیے منسلک کردی گئی اور گھوڑا رکھنے والے ان پر مشقت اٹھاتے رہیں گے۔ گزشتہ روایات میں بنی ہاشم کو گدھے کی گھوڑی پر جفتی سے کیوں منع فرمایا گیا۔ اس خصوصیت کی کیا وجہ ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہے بنی ہاشم میں گھوڑوں کی قلت تھی اس وجہ سے ان کو گھوڑے کی نسل بڑھانے کی ترغیب اور کچر کی نسل کشی سے منع کیا گیا جیسا اس اثر میں موجود ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب :
گزشتہ روایات میں بنی ہاشم کو گدھے کی گھوڑی پر جفتی سے کیوں منع فرمایا گیا۔ اس خصوصیت کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : بنی ہاشم میں گھوڑوں کی قلت تھی اس وجہ سے ان کو گھوڑے کی نسل بڑھانے کی ترغیب اور خچر کی نسل کشی سے منع کیا گیا جیسا اس اثر میں موجود ہے۔