۵۲۳۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، وَعَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی الرِّکَازِ ، الْخُمُسُ .
٥٢٣٤: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دفن شدہ مال میں خمس یعنی پانچواں حصہ ہے۔
تخریج : بخاری فی المساقاۃ باب ٣‘ والزکوۃ باب ٦٦‘ مسلم فی الحدود ٤٥؍٤٦‘ ابو داؤد فی اللقطہ ١٧١٠‘ والامارۃ باب ٤٠‘ والدیات باب ٢٧‘ الترمذی فی الاحکام باب ٣٧‘ ابن ماجہ فی اللقطہ باب ٤‘ مالک فی الزکوۃ ٩‘ مسند احمد ١؍٣١٤‘ ٢؍١٨٠‘ ١٨٦‘ ٢٠٣‘ ٣؍١٢٨‘ ٣٣٥‘ ٣٣٦۔
دوسرا مسئلہ خمس غنیمت۔ آیت میں مذکور مصارف پر خرچ ہوگا۔ اب آپ کی وفات کے بعد اس کے متعلق اختلاف ہے پہلا قول۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ذوی القربیٰ کا حصہ آپ کی وفات کی وجہ سے ساقط ہوا اب تین حصول میں تقسیم ہوگا۔ ذوی القربیٰ کا حصہ بقول امام شافعی بوجہ قرابت ہے ہر فقیر و غنی اس کا حق دار ہے اور احناف کے ہاں بوجہ نصرت حق ہے اور وہ ساقط ہے۔ (التعلیق ج ٤‘ المرقات ج ٨)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ما افاء اللہ ۔۔۔ (الحشر : ٧ )
اللہ تعالیٰ کا ارشارد ہے : واعلموا انما غنمتم من شیء ۔۔۔ (الانفال : ٢)
نمبر 1: اور جو اللہ تعالیٰ بستیوں والوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء کرے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرابت والوں اور یتیموں اور مساکین ‘ مسافروں کے لیے ہے۔
نمبر 2: اور جان جو کچھ تم مال غنیمت سے حاصل کرو تو بلاشبہ اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرابت داروں اور یتیموں اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں جس مال کا ذکر فرمایا ہے اس کا تعلق اس مال سے ہے جس کو مسلمان مشرکین سے بطور صلح حاصل کریں اور وہ مال جس کو ان سے بطور جزیہ جانوں کے بدلے میں لیا جائے اور اسی قسم کے جو دوسرے اموال ہیں۔
اور آیت دوم میں جس مال کا تذکرہ ہے اس سے مراد وہ مال ہے جو تلواروں کے ذریعہ غلبہ سے حاصل ہو۔ یا مدفون خزانہ ہو اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے پانچواں حصہ مقرر کیا اور اس سلسلہ میں متواتر روایات پائی جاتی ہیں۔
دو روایات بطور نمونہ ذکر کی جاتی ہیں۔