۵۲۳۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُجَّاجِ بْن سُلَیْمَانَ الْحَضْرَمِیُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ بْنِ رَاشِدٍ الْبَصْرِیُّ ، وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْکُوْفِیُّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ، قَالُوْا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، قَالَ کَانَتِ الْغَنِیْمَۃُ تُقْسَمُ عَلَی خَمْسَۃِ أَخْمَاسٍ ، فَأَرْبَعَۃٌ مِنْہَا لِمَنْ قَاتَلَ عَلَیْہَا ، وَخُمُسٌ وَاحِدٌ یُقْسَمُ عَلٰی أَرْبَعَۃٍ ، فَرُبْعٌ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ وَلِذِی الْقُرْبَی ، یَعْنِی : قَرَابَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا کَانَ لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ ، فَہُوَ لِقَرَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ یَأْخُذْ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ شَیْئًا ، وَالرُّبْعُ الثَّانِیْ لِلْیَتَامَی ، وَالرُّبْعُ الثَّالِثُ لِلْمَسَاکِیْنِ ، وَالرُّبْعُ الرَّابِعُ لِابْنِ السَّبِیْلِ ، وَہُوَ الضَّیْفُ الْفَقِیْرُ الَّذِیْ یَنْزِلُ الْمُسْلِمِیْنَ .وَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَعْنَی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ مِفْتَاحُ کَلَامٍ ، وَأَنَّ قَوْلَہُ وَلِلرَّسُوْلِ یَجِبُ بِہٖ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ سَہْمٌ ، وَکَذٰلِکَ مَا أَضَافَہُ اِلَی مَنْ ذَکَرَہُ فِیْ آیَۃٍ خُمُسِ الْغَنَائِمِ جَمِیْعًا .وَرَوَوْا ذٰلِکَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ .
٥٢٣٧: علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ مال غنیمت پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا چار حصے غازیوں کے ہوتے اور ایک خمس چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا۔ ایک چوتھائی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آپ کے قرابت والوں کے لیے ہوتا یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ ہوتا وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت والوں کے لیے ہوتا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خمس میں سے کوئی چیز نہ لیتے تھے۔ دوسرا چوتھائی یتیموں اور تیسرا چوتھائی مساکین اور چوتھا چوتھائی مسافروں کے لیے اس سے مراد وہ فقیر مہمان ہیں جو مسلمانوں کے پاس آئے۔ آیت ” فان اللہ خمسہ “ یہ تو افتتاح کلام کے لیے ہے اور للرسول کے الفاظ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک حصہ کا لازم کرنا مراد ہے اور اسی طرح غنائم کے خمس میں جن تمام کا تذکرہ ہوا ان کے لیے حصہ کو لازم کرنا مراد ہے اور یہ حسن بن محمد بن علی (رض) سے مروی ہے۔ روایت یہ ہے۔
تیسرا قول : آیت ” فان اللہ خمسہ “ یہ تو افتتاح کلام کے لیے ہے اور للرسول کے الفاظ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک حصہ کا لازم کرنا مراد ہے اور اسی طرح غنائم کے خمس میں جن تمام کا تذکرہ ہوا ان کے لیے حصہ کو لازم کرنا مراد ہے اور یہ حسن بن محمد بن علی (رض) سے مروی ہے۔ روایت یہ ہے۔