۵۲۳۶ : حَدَّثَنِیْ عَنْ أَبِیْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِیْ جَعْفَرٍ الرَّازِیِّ ، عَنِ الرَّبِیْعِ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤْتَی بِالْغَنِیْمَۃِ ، فَیَضْرِبُ بِیَدِہٖ، فَمَا وَقَعَ فِیْہَا مِنْ شَیْئٍ ، جَعَلَہُ لِلْکَعْبَۃِ ، وَہُوَ سَہْمُ بَیْتِ اللّٰہِ، ثُمَّ یَقْسِمُ مَا بَقِیَ خَمْسَۃً ، فَیَکُوْنُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَہْمٌ ، وَلِذِی الْقُرْبَیْ سَہْمٌ ، وَلِلْیَتَامَیْ سَہْمٌ ، وَلِلْمَسَاکِیْنِ سَہْمٌ ، وَلِابْنِ السَّبِیْلِ سَہْمٌ .قَالَ : وَالَّذِیْ جَعَلَہُ لِلْکَعْبَۃِ ، ہُوَ السَّہْمُ الَّذِیْ جَعَلَہُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .وَذَہَبَ آخَرُوْنَ اِلَی مَا أَضَافَ اللّٰہُ - جَلَّ ثَنَاؤُہُ - اِلَی نَفْسِہِ مِنْ ذٰلِکَ ، أَنَّہٗ مِفْتَاحُ کَلَامٍ ، افْتَتَحَ بِہٖ مَا أَمَرَ مِنْ قِسْمَۃِ الْفَیْئِ ، وَخَمَّسَ الْغَنَائِمَ فِیْہِ، قَالُوْا : وَکَذٰلِکَ مَا أَضَافَہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَرَوَوْا ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا .
٥٢٣٦: میری طرف علی بن عبدالعزیز (رح) نے لکھا کہ مجھے ابو عبیداللہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوالعالیہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مال غنیمت لایا جاتا تو آپ اس میں ہاتھ ڈالتے اس میں سے جو کچھ ہاتھ میں آجاتا اس کو بیت اللہ شریف کے لیے قرار دے دیتے وہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہوتا پھر جو کچھ بچتا اس کو پانچ حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایک حصہ آپ کے قرابت داروں کے لیے ایک حصہ یتیموں کے لئے۔ ایک حصہ محتاجوں کے لیے اور ایک حصہ مسافروں کے لیے بیت اللہ شریف کے لیے وہی حصہ مقرر فرماتے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا۔ آیت میں فان اللہ خمسہ الایہ اس میں جس حصے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے تو نسبت آغاز کلام کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنائم کے خمس کی تقسیم کے حکم کی ابتداء فرمائی اور جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ہے اس کا یہی مقصد ہے کہ کلام کا آغاز کرنے کے لیے یہ نسبت ذکر کی (کیوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خمس کو تقسیم کرنے والے ہیں) یہ بات حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے۔