hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5242

.

الطحاوي

5242
Al Tahawi
۵۲۴۱ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ الْفِرْیَابِیُّ ، قَالَ : ثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیْعِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَمْ تَحِلَّ الْغَنِیْمَۃُ لِقَوْمٍ سُوْدِ الرُّئُوْسِ قَبْلَکُمْ ، کَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَائِ فَتَأْکُلُہَا حَتّٰی کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ ، فَوَقَعُوْا فِی الْغَنَائِمِ فَاخْتَلَفَ بِہِمْ ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا .ثُمَّ اِنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوْا فِی الْأَنْفَالِ ، فَانْتَزَعَہَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ، ثُمَّ جَعَلَہَا لِرَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ یَسْأَلُوْنَک عَنِ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ .
٥٢٤١: ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ غنائم تم سے پہلے کسی سیاہ بالوں والی قوم کے لیے حلال نہ تھے بلکہ آسمان سے آگ آ کر ان کو جلا دیتی تھی یہاں تک کہ بدر کا دن آیا اور وہ غنائم میں مبتلا ہوئے اور اس کے متعلق ان میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لو لا کتاب من اللہ سبق۔۔۔ پھر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنیمت کے (تقسیم کے) متعلق اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تقسیم کا حق چھین کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عنایت فرمایا اور یہ آیت اتاری : یسئلونک عن الانفال قل الانفال اللہ والرسول۔۔۔ آپ سے غنائم کے متعلق پوچھتے ہو تو آپ فرما دیں یہ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہیں۔
تخریج : ترمذی فی تفسیر سورة ٨‘ باب ٧‘ مسند احمد ٢؍٢٥٢۔