۵۲۴۲ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْحَارِسِ ، عَنْ سُلَیْمَانِ بْنِ مُوْسٰی‘ عَنْ مَکْحُوْلٍ ، عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، قَالَ : خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْ بَدْرٍ ، فَلَقِیَ الْعَدُوَّ .فَلَمَّا ہَزَمَہُمْ اللّٰہٗ، اتَّبَعَتْہُمْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَقْتُلُوْنَہُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَۃٌ بِالْعَسْکَرِ وَالنَّہْبِ .فَلَمَّا نَفَی اللّٰہُ الْعَدُوَّ ، وَرَجَعَ الَّذِیْنَ طَلَبُوْھُمْ ، قَالُوْا : لَنَا النَّفَلُ ، نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ ، وَبِنَا نَفَاہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہَزَمَہُمْ .وَقَالَ الَّذِیْنَ أَحْدَقُوْا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا ، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَا یَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْہُ غُرَّۃً .وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتَوْلَوْا عَلَی الْعَسْکَرِ وَالنَّہْبِ : وَاللّٰہِ مَا أَنْتُمْ أَحَقُّ بِہٖ مِنَّا ، نَحْنُ حَوَیْنَاہُ وَاسْتَوْلَیْنَاہُ .فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَسْأَلُوْنَک عَنِ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِلَی قَوْلِہٖ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ فَقَسَمَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَہُمْ عَنْ فَوَاقٍ .
٥٢٤٢: حضرت ابو امامہ باہلی (رض) نے حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف تشریف لے گئے پھر دشمن سے ٹکراؤ ہوا۔ پس جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے ان کا پیچھا کر کے ان کو قتل کیا اور ایک جماعت نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور ایک جماعت لشکر پر غلبہ پا کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی اور وہ لوگ لوٹ کر آئے جنہوں نے دشمن کا پیچھا کیا تھا وہ کہنے لگے غنیمت ہمارا حق ہے ہم نے دشمن کو ڈھونڈا اور ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھگایا اور شکست دی۔ وہ لوگ جنہوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا تھا وہ کہنے لگے تم ہم سے زیادہ غنیمت کے حقدار نہیں ہو۔ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور دشمن دھوکا دہی سے بھی آپ تک نہیں پہنچ سکا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے لشکر کی حفاظت کی اور لوٹ کر اکٹھا کیا وہ کہنے لگے اللہ کی قسم تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو۔ ہم نے لشکر کی حفاظت کی اور غنیمت پر قبضہ جمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی : یسئلونک عن الانفال قل الانفال اللہ والرسول ۔۔۔ ان کنتم مؤمنین۔۔۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مکمل طور پر برابر تقسیم فرما دیا۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٣٢٤۔